رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ میں قتل، اغواء، عصمت ریزی کے واقعات میں کمی

   

267 مقدمات میں مجرمین کو سزا، 22 افراد کو عمر قید، کمشنر مہیش بھگوت کی سالانہ رپورٹ

حیدرآباد ۔ 24 ڈسمبر (سیاست نیوز) رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ میں جاریہ سال مجموعی طور پر جرائم میں 19 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم قتل، اغوا، عصمت ریزی، جہیز کے لئے اموات، مجرمانہ، قتل، خودکشی کیلئے اکسانا اور خواتین کے قتل کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات کمشنر پولیس رچہ کنڈہ مسٹر مہیش بھگوت نے بتائی۔ انہوں نے آج یہاں رچہ کنڈہ پولیس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کو پیش کی۔ پولیس نے بتایا کہ جاریہ سال سائبر کرائم میں 66 فیصد خواتین پر مظالم میں 17 فیصد جائیداد کیلئے جرم میں 23 فیصد، دھوکہ دہی کے معاملات میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ منشیات کے معاملات میں 140 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رچہ کنڈہ پولیس منشیات کے خلاف سختی سے اقدامات کررہی ہے۔ گانجہ، ایم ڈی ایم اے حشیش آئیل اور دیگر نشہ آور اشیاء و منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ سڑک حادثات میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ حادثات میں پیش آئی اموات میں گذشتہ سال کی بہ نسبت کمی واقع ہوئی ہے۔ پولیس کی جانب سے بہتر پالیسی اور اقدامات کے سبب آؤٹر رنگ روڈ پر حادثات میں 7.69 فیصد تک کمی کو ممکن بنایا گیا ہے جبکہ اموات کے فیصد میں 31.50 فیصد تک کمی کو ریکارڈ کیا گیا۔ رچہ کنڈہ حدود میں قماربازی کے واقعات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجرمین کو سزا دلانے کے معاملات میں 59 فیصد ریکارڈ کے ساتھ رچہ کنڈہ پولیس نے ریاست میں سرفہرست مقام حاصل کرلیا ہے۔ جملہ 267 مقدمات میں مجرمین کو سزاء دلائی گئی ہے جن میں 22 افراد کو عمرقید کی سزاء سنائی گئی جو ریاست میں ایک ریکارڈ ہے۔ پاکسو مقدمات میں سزاء کا فیصد 66 رہا ہے۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ منشیات کے بعد دنیا میں دوسرا بڑا جرم بردہ فروشی کا ہے جس کے خلاف کارروائیوں میں رچہ کنڈہ پولیس اپنی منفرد شناخت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچہ مزدوری کے خلاف اقدامات کے علاوہ بچوں کو تعلیم کیلئے ان کی مادری زبان میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اینٹ کی بھٹی میں کام کرنے والے خانہ بدوش مزدوروں کے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم کا موقع دیا جارہا ہے۔ پولیس رچہ کنڈہ کی جانب سے اڑیہ زبان میں تعلیم کے بعد اب مراٹھی ذریعہ تعلیم کے موقع دیا جارہا ہے۔ آن لائن دھوکہ دہی اور سوشل میڈیا پر خصوصی نظر رکھی گئی ہے۔ مذہبی منافرت پھیلانے والے اور سیاسی پوسٹوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ رچہ کنڈہ پولیس کی آئی ٹی سیل کی جانب سے 1995ء لنکس کو حذف کردیا گیا اور 5091 شکایتیں سوشل میڈیا کے ذریعہ حاصل ہوئیں۔ کمشنر پولیس مہیش بھگوت نے بتایا کہ آئندہ سال رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ کی مستقل عمارت کی تعمیر کا آغاز ہوجائے گا جس کیلئے حکومت کی جانب سے 77 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ میڑپلی میں 56 ایکر اراضی پر آر اینڈ بی کے ذریعہ کمشنریٹ کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی اور پولیس کمشنریٹ حدود میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ لا اینڈ آرڈر کے 5 اور ٹریفک کے 4 نئے پولیس اسٹیشنس کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مہیشورم میں نیا زون تشکیل دیا جائے گا اور مہیشورم میں نیا ڈیویژن بھی قائم ہوگا۔ مہیشورم زون کے تحت ابراہیم پٹنم اور مہیشورم ڈیویژن رہیں گے جبکہ چیرلہ پلی، ناگول، ملکاجگری میں ویمن پولیس اسٹیشن آئی ٹی کاریڈار اور حیدرآباد گرین فارماسٹی میں نئے پولیس اسٹیشن قائم ہوں گے جبکہ گھٹکیسر، جواہر نگر اور ونستھلی پورم میں ٹریفک پولیس اسٹیشن کا اضافہ کیا جائے گا۔ رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ کے ہر زون میں ایڈیشنل ڈی سی پی کو مقرر کیا جائے گا۔ اس طرح اسپیشل برانچ کیلئے ڈی سی پی سطح کا عہدیدار اور ایس او ٹی کیلئے دو ایڈیشنل ڈی سی پیز کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 763 نئے جائیدادوں کو رچہ کنڈہ کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ اس موقع پر رچہ کنڈہ پولیس کے دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ع