سنجے سنگھ کو عدالت سے پھر مایوسی، عدالتی حراست میں 10 نومبر تک توسیع

   

نئی دہلی: آبکاری گھوٹالہ معاملے میں گرفتار عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو ایک بار پھر عدالت سے جھٹکا لگا ہے۔ سنجے سنگھ کی عدالتی حراست 10 نومبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ جمعہ کے روز عدالت میں ای ڈی نے انھیں پیش کیا تھا جہاں عدالت نے حراست میں توسیع کا حکم دیا۔ حالانکہ عدالت نے انھیں ایک راحت دیتے ہوئے نجی ڈاکٹر سے علاج کرانے کی چھوٹ دے دی ہے۔ دراصل سنجے سنگھ ذیابیطس اور گلوکوما جیسی بیماریوں سے متاثر ہیں۔ عدالت نے جیل اتھارٹی سے کہا ہے کہ سنجے سنگھ کو آئی سنٹر لے جا کر ان کا علاج کروائیں۔ ضروری سیکورٹی کے درمیان انھیں اسپتال لے جانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سنجے سنگھ کو 4 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سنجے سنگھ کو 8 دن تک حراست میں رکھ کر پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔ 13 اکتوبر کو گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے سنجے سنگھ کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس درمیان دہلی ہائی کورٹ سے بھی انھیں راحت نہیں ملی۔
معاملہ ہائی کورٹ بھی پہنچا تھا لیکن اس نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔واضح رہے کہ ای ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ شراب یعنی آبکاری گھوٹالہ معاملے میں سنجے سنگھ کے پاس رشوت کی رقم پہنچی تھی۔ اس کے علاوہ جانچ ایجنسی کا یہ بھی الزام ہے کہ متنازعہ آبکاری پالیسی بنانے میں انھوں نے اہم کردار نبھایا تھا۔ حالانکہ عآپ اور دہلی حکومت کی طرف سے انھیں بے قصور بتاتے ہوئے شراب گھوٹالہ کے دعووں کو خارج کیا ہے۔