سٹی کالج میں راہداری کا کچھ حصہ منہدم، کوئی جانی نقصان نہیں

   

رکن اسمبلی چارمینار نے دورہ کیا۔ عدم دیکھ بھال سے تاریخی عمارت خستہ حال، طلبہ کی سلامتی پر تشویش
حیدرآباد، 24 اگست (سیاست نیوز) تاریخی گورنمنٹ سٹی کالج کی عمارت میں پیر کی صبح راہداری کا کچھ حصہ اچانک منہدم ہوگیا۔ اس حادثہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ چارمینار کے رکن اسمبلی میر ذوالفقار علی نے واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد کالج کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے متاثرہ حصوں کا معائنہ کیا۔ رکن اسمبلی نے فزکس، کیمسٹری، باٹنی اور زولوجی شعبہ جات کی راہداریوں کے علاوہ لائبریری کے قریب موجود حصوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے 100 سال سے زائد قدیم عمارت کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس تاریخی عمارت کی فوری مرمت اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی کے مطابق مسلسل بارش اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث عمارت کی چھتیں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر سریے بھی نمایاں ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش قسمتی ہے کہ جس وقت راہداری کا حصہ منہدم ہوا، وہاں طلبہ موجود نہیں تھے، ورنہ کالج میں زیرتعلیم تقریباً 6,000 طلبہ کی زندگیوں کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ تاریخی عمارت کی مرمت، تباہ شدہ سلیبوں کی تبدیلی اور ضروری تزئین و مرمت کے کاموں کے لیے فوری طور پر ہنگامی فنڈز جاری کیے جائیں۔ طلبہ اور عملہ کے تحفظ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ گورنمنٹ سٹی کالج کا تاریخی پس منظر 1865 ء میں نظام محبوب علی خان کے دور میں قائم مدرسہ دارالعلوم سے جڑا ہے۔ اسے نظام سابع میر عثمان علی خان نے سٹی ہائی اسکول میں تبدیل کیا۔ موجودہ عمارت 1921 ء میں قائم ہوئی اور 1929 ء میں ادارہ کو کالج کا درجہ دیا گیا۔ اس عمارت کا ڈیزائن برطانوی معمار ونسنٹ ایش نے تیار کیا تھا جبکہ نواب خان بہادر مرزا اکبر بیگ اس پراجکٹ کے چیف انجینئر رہے۔ یہ عثمانیہ یونیورٹی سے ملحقہ خودمختار جامع ادارہ ہے۔