سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد منسوخ شدہ 19 لاکھ راشن کارڈس کی دوبارہ جانچ شروع

   

15 دن میں فیلڈ ویریفکیشن کرنے عہدیداروں کو احکامات ، لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد تلنگانہ حکومت نے منسوخ کردہ 19 لاکھ راشن کارڈس کا جائزہ لینے کے لیے دوبارہ شیڈول جاری کردیا ہے ۔ ریاست میں 5 تا 20 جولائی تک 15 دن کے دوران راشن کارڈ کے لیے کون اہل ہے کون نا اہل ہے ۔ اس کا فیصلہ کرنے میں سرکاری مشنری مصروف ہوگئی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے 19 لاکھ راشن کارڈس کو منسوخ کردیا تھا ۔ حکومت کا یہ فیصلہ متنازعہ ہوگیا ۔ اس پر طویل عرصہ سے مباحث چل رہی ہے ۔ بغیر کسی چھان بین کے 19 لاکھ راشن کارڈ کو منسوخ کردینے پر مستحقین کے ساتھ نا انصافی ہونے کی سپریم کورٹ میں داخل ہوئی درخواست کا جسٹس ایل ناگیشور راؤ ، جسٹس بی آر گوائی پر مشتمل پنچ نے اس درخواست کی 27 اپریل کو سماعت کی ۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ زمینی سطح پر جائزہ لیے بغیر کمپیوٹر کی تفصیلات پر اتنی بڑی تعداد میں راشن کارڈس منسوخ کرنے کی مخالفت کی اور راشن کارڈس کو منسوخ کرنے کے لیے کونسے معیارات پر عمل کیا گیا ایک حلف نامہ داخل کرنے کی حکومت کو 2016 میں ہدایت دی تھی اور ساتھ ہی مرکز کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کے تحت زمینی سطح پر اس کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ۔ جس کے مطابق محکمہ سیول سپلائز کے کمشنر انیل کمار نے تازہ احکامات جاری کئے ۔ اضلاع کلکٹرس ، حیدرآباد کے چیف راشنگ آفیسر اور ایڈیشنل کلکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ مزید کسی بے قاعدگیوں کے فیلڈ پر پہونچ کر ویریفکیشن کریں ۔ احکامات کی عمل آوری میں لا پرواہی کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ۔ جن لوگوں کے راشن کارڈس منسوخ ہوئے ہیں ۔ راشن شاپس سے ان کے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے نوٹسیں جاری کئے جائیں ۔ منسوخ ہونے والے راشن کارڈس ہولڈرس کی فہرست تمام راشن شاپس اور گرام پنچایتوں پر چسپاں کیا جائے ۔ اگر وہ لوگ اہل پائے گئے تو وجوہات تحریر کریں ۔ تفصیلات اندراج کرتے ہوئے ای پی ڈی ایس اپلیکیشن میں دئیے گئے لنک میں اپ لوڈ کیا جائے ۔ اگر منسوخ کردہ راشن کارڈ درست پائے گئے تو حکام اس کی وجوہات رپورٹ میں درج کریں ۔ اہل افراد کی شناخت کے عمل میں مسائل ہوں تو ڈسٹرکٹ سیول سپلائی آفیسر کی توجہ میں لائے ۔۔ ن