سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں تشدد، 46 افراد گرفتار

   

نوجوان پر مقدمات، 58 کوچس کو نقصان: ایس پی ریلوے انورادھا
حیدرآباد : /19 جون (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کیخلاف سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر بڑے پیمانے پر پیش آئے تشدد کے واقعات میں 2000 سے زائد افراد نے حصہ لیا جس میں سے 46 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ریلویز شریمتی انورادھا نے آج بتایا کہ تشدد سے قبل /16 جون کو آرمی کوچنگ سنٹر سے تعلق رکھنے والے افراد نے واٹس ایپ گروپ پر منصوبہ تیار کرتے ہوئے اسے نوجوانوں میں شیئر کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بند طریقہ سے یہ تشدد برپا کیا گیا ہے تاکہ اگنی پتھ اسکیم کو متاثر کیا جاسکے ۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انورادھا نے کہا کہ تشدد میں ملوث ہونے والے افراد میں اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جنہوں نے فوج میں بھرتی کا فزیکل ٹسٹ میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ریلوے املاک کو نقصان پہنچانے پر پولیس نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں ملوث ہونے والے نوجوان مزید ریلوے املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے تیار تھے اور اسے روکنے کیلئے ان پر ریلوے پروٹیکشن فورس کی جانب سے 20 راؤنڈ فائرنگ کی گئی جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ۔ سپرنٹنڈٔنٹ پولیس ریلوے نے کہا کہ تشدد میں ملوث ہونے والے نوجوانوں کے خلاف اقدام قتل کے علاوہ ریلوے پولیس ایکٹ دفعہ 150 عائد کیا گیا ہے جس کے تحت انہیں عمر قید کی بھی سزاء ہوسکتی ہے اور مستقبل میں وہ کسی بھی قسم کی سرکاری ملازمت نہیں حاصل کرسکتے ۔ ریلوے پولیس کے تجزیہ میں یہ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجیوں نے تشدد کے دوران 58 ریلوے کوچیس کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ 9 ریلوے ملازمین زخمی ہوئے ہیں ۔ اس تشدد میں جملہ 12 کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ ب