سیاسی شعبدہ ناکام ہوگیا

   

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
مرکزی حکومت کی جانب سے ہر بار کی طرح ملک کے عوام کو گمراہ کرنے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ایک بار پھر کوشش شروع ہوگئی ہے ۔ لوک سبھا میں خواتین تحفظات بل کو منظوری نہیں مل پائی ۔ دستوری ترمیمی بل کی منظوری کیلئے دو تہائی ارکان کی تائید ضروری ہوتی ہے جو بی جے پی یا این ڈی اے کو حاصل نہیں ہے ۔ مودی حکومت اس صورتحال سے پوری طرح واقف بھی ہے اور وہ جانتی تھی کہ اسے لوک سبھا میں یہ بل منظور کروانے میں ناکامی ہی ہاتھ آئے گی اس کے باوجود محض تین دن کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے اس بل کو پیش کرنا اور اس کو منظور کروانے کی کوشش کرنا سیاسی شعبہ بازی کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔ خواتین تحفظات کا مسئلہ ابھی حال میں نہیں اٹھا ہے بلکہ کئی برس سے چلا ا ٓ رہا ہے ۔ اس مسئلہ پر ملک میںکافی سیاست کی گئی ہے ۔ خواتین کو پارلیمنٹ اور دیگر قانون ساز اداروں میں 33 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے یہ پہل دہوں پہلے کی گئی تھی ۔ اقتدار کی تبدیلیوں کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا کہ جن جماعتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی انہوں نے اپنے موقف بدلے اور اس کی تائید کا اعلان کیا اورجن جماعتوں نے اس کی ابتداء میں تائید کی تھی انہوں نے بدلتے وقتوں کے ساتھ بل میں تبدیلی کرنے کی وکالت کرتے ہوئے اس کی مخالفت بھی کی ہے ۔ اب اچانک ہی اس بل پر انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی حکومت نے یہ تاثر دیا ہے کہ اس نے محض انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے اس بل کو لوک سبھا میںپیش کیا تھا جبکہ اسے احساس تھا کہ اسے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اور یہ بل ایوان میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ اب اس بل کی ناکامی کیلئے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی مہم بھی شروع کردی گئی ہے ۔ اس کی ناکامی کیلئے اپوزیشن پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن نے بل کی تائید نہیں کی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے سادہ انداز میں خواتین تحفظات بل پیش نہیں کیاتھا بلکہ اس کے ساتھ حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا بل بھی جوڑ دیا تھا ۔ اس بل پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے اپنے تحفظات اور اعتراضات کا اظہار ابتداء ہی سے کیا تھا ۔
جہاں تک خواتین تحفظات کی بات ہے تو ملک کی تقریبا تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ خواتین کو33 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں۔ تاہم مودی حکومت 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر یہ کام کرنا چاہتی تھی جبکہ ملک میں مردم شماری کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ جہاں طویل عرصہ اس بل کیلئے انتظار کیا گیا وہیں کچھ عرصہ انتظار کرتے ہوئے 2027 کی مردم شماری کی بنیاد پر نہ صرف خواتین تحفظات فراہم کئے جاسکتے ہیں بلکہ حلقہ جات کی حد بندی بھی کی جاسکتی ہے ۔ مودی حکومت نے اپنے پوشیدہ عزائم کی تکمیل کیلئے یہ بل ایک سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کے علاوہ انتہائی جلد بازی میں بل منظور کروانے کی کوشش کی گئی جبکہ حکومت جانتی تھی کہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ بل کی منظوری کیلئے اپوزیشن جماعتوںکو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی انہیں حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کے مسئلہ پر لاحق شبہات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھی حکومت کی جانب سے کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ صرف بل کی تائید کرنے کی اپیل کی گئی جو ایک سیاسی حربہ اور شعبدہ کے سوا کچھ نہیں تھا ۔اس بل کی پیشکشی کے ذریعہ بی جے پی کا واحد مقصد مغربی بنگال اور ٹاملناڈو میں جاری انتخابی عمل میں خواتین کو دھوکہ دیتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل کرنا ہی تھا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس بات کو پوری طرح سے واضح بھی کردیا اور اس بل کی تائید سے انکار کردیا ۔ بی جے پی کی جانب سے اب اس مسئلہ پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کا باضابطہ طور پر آغاز بھی کردیا گیا ہے ۔
ملک میں کچھ مقامات پر پوسٹرس اور بیانرس لگانے شروع کردئے گئے ہیں۔ کل ہی یہ بل لوک سبھا میں نامنظور ہوا ہے اور آج صبح سے پوسٹرس اور بیانرس لگانے شروع ہوگئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی پہلے ہی سے اس مسئلہ پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ محض خواتین کو گمراہ کرنے کیلئے اورا ن کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے یہ ساری تگ و دو کر رہی تھی ۔ خواتین تحفظات اور حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اورا س پر کسی طرح کے سیاسی ہتھکنڈے اختیار کرنے کی بجائے ان پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ خواتین کو ان کا واجبی اور جائز مقام فراہم کرنے کیلئے ضرور اقدام کئے جانے چاہئیں تاہم ان سے محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔ یہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے جس کا اظہار مودی حکومت نے کیا ہے ۔
ایران ‘آبنائے ہرمز اور امریکہ
ایک ایسے وقت میں جبکہ یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی پر کوئی معاہدہ جوجائے گا اور دنیا بھر میں حالات معمول پر آنے لگیں گے اچانک ہی صورتحال بدلنے لگی ہے اور امریکہ کی جانب سے کئے جانے والے متضاد دعووں کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کردیا گیا ہے ۔ ایران نے کل ہی آبنائے ہرمز کو کھول دینے کا فیصلہ کیا تھا اورا سے کھول دیا گیا تھا ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند نہ کرنے کا بھی تیقن دیا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ جہاں ایران نے ہرمز کو کھول دیا ہے وہیں امریکہ کی جانب سے اس کے محاصرہ کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ تاہم ایران نے امریکہ کی جانب سے معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک بار پھر سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا ہے ۔ یہ مسئلہ آنکھ مچولی جیسا ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے ۔ اس پر پل پل موقف بدلنے کی بجائے انتہائی سنجیدہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ مسئلہ ساری دنیا کی تیل اور توانائی کی ضروریات سے جڑا ہوا ہے اور اس کی اہمیت کا امریکہ کو اندازہ کرنا چاہئے ۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ فریقین میں اعتماد بحال ہو اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت جاری رہے ۔