حیدرآباد۔29جون(سیاست نیوز) تلنگانہ میں موجود اقلیتی آبادی کے لئے چلائی جانے والی اسکیمات اور ان کے بجٹ کی اجرائی کو مؤثر بنانے کے لئے ذمہ دار کون ہیں! ریاستی حکومت اور محکمہ فینانس کی جانب سے اقلیتوں کے لئے چلائی جانے والی اسکیمات کے سلسلہ میں بجٹ کی عدم اجرائی کی شکایت عام ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے ادارہ ٔ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کا کہناہے کہ اب وہ یہ بھی نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ ان کے اپنے ادارہ کی سرگرمیو ںکو جاری رکھنے کیلئے بجٹ کے حصول کے لئے کس سے نمائندگی کی جائے کیونکہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود بے یار و مددگار ہوچکا ہے اور عہدیداروں کے رحم و کرم پر محکمہ چلایا جا رہاہے۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںنے جو رویہ ان اداروں کے ملازمین کے ساتھ اختیار کیا ہوا ہے اس سے ملازمین عاجز آچکے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اور متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود مسلمانوں کی معاشی ‘ سماجی و تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کو تیز کرنے کے متعلق کسی بھی گوشہ سے کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت میں شامل وزراء بالخصوص وزیر اقلیتی بہبود کو اپنے دیگر محکمہ جات سے دلچسپی ہے لیکن وہ اقلیتی بہبود کے متعلق نظر انداز والی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں کے ذمہ داروں کی جانب سے رابطہ کی کوشش پر انہیں اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں تک محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار جو ان اداروں کے ملازمین سے ملاقات کے لئے تک وقت نہیں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بجٹ اور اسکیمات کے لئے ان سے رجوع نہ کیا جائے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدما ت انجام دینے والے بعض عہدیدار عوام سے دور اپنے محکمہ کے تحت موجود اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقات کے لئے آمادہ نہیں ہیں کیونکہ ان کا یہ احساس ہے کہ وہ جس منصب پر فائز ہیں ان سے بات کرنے کی صلاحیت کسی ادارہ کے ذمہ دار میں نہیں ہے اسی لئے وہ ان سے ملاقات نہیں کرتے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے ادارۂ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مطابق انہوں نے تشکیل تلنگانہ کے بعد سے پائے جانے والے کئی مسائل کے متعلق ریاست کے مسلم قائدین اور حکومت میں شامل مسلم نمائندوں کو واقف کروایا ہے لیکن اس کے باوجود بجٹ کی اجرائی میں کوتاہی کے سبب وہ اسکیمات چلانے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ وزیر اقلیتی بہبود اور مسلمانوں کی ترقی‘ فلاح و بہبود کے لئے جن لوگوں کو آواز اٹھانی چاہئے ان لوگوں کی جانب سے عہدیدارو ںاور وزیر کے رویہ پر اختیار کردہ خاموشی کے متعلق برسراقتدار جماعت کے سیاسی قائد کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اس سلسلہ میں مسلم قائدین کے نمائندہ وفد کی ملاقات ضروری ہے کیونکہ اگر یہی صورتحال رہتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت تلنگانہ کا محکمہ اقلیتی بہبود تباہ ہوجائے گا اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے سلسلہ میں چلائی جانے والی اسکیمات ختم ہوجائیں گی۔ سیاسی عہدوں پر فائز ذمہ داروں کا ماننا ہے کہ ریاستی حکومت مشیر برائے اقلیتی بہبود اور پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کا رویہ یا ان عہدیداروں کو تبدیل کرتے ہوئے ان کی جگہ فعال عہدیداروں کو ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں حالات میں سدھار ممکن ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی قلت کے سبب ایک عہدیدار کو کئی ذمہ داریاں ہیں جو کہ محکمہ کو کارکردگی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی میں کی جانے والی کوتاہی ریاستی وزیر اقلیتی بہبود اور عہدیداروں کی لاپرواہی کے سبب مسلسل جاری ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں کے ذمہ داروں نے اس سلسلہ میں رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی کو بھی اپنے طور پرادارۂ جات کی صورتحال سے واقف کروایا ہے لیکن کوئی حل دریافت نہیں ہوسکا ‘ اسی طرح برسراقتدار جماعت کے تمام بااثر قائدین کو متعدد مرتبہ متوجہ کروایا جاچکا ہے لیکن عہدیداروں کی من مانی کے سبب حالات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ م