س6سال میں گریٹر حیدرآباد کی ترقی پر 67 ہزار کروڑ خرچ

   

امدادی رقم کی تقسیم میں رکاوٹ پیدا کرنے والی بی جے پی اور کانگریس کو ووٹ مانگنے کا حق نہیں: کے کویتا

حیدرآباد : ٹی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ سیلاب کے متاثرین کو امدادی رقم کی تقسیم میں رکاوٹ بننے والی بی جے پی اور کانگریس کو جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے۔ اسمبلی حلقہ مشیرآباد کے بلدی ڈیویژن گاندھی نگر کی ٹی آر ایس امیدوار ایم پدمانریش کے ساتھ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر حیدرآباد 100 سال کی تاریخ میں دوسری بڑی بارش سے متاثر رہا۔ سیلاب کی وجہ سے عوام بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے وزیراعظم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے امداد دینے کی اپیل کی۔ مرکزی ٹیم نے بھی سیلاب و بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ سرکاری عہدیداروں نے انہیں نقصانات کی تفصیلات پیش کی مگر مرکز نے ایک روپیہ کی بھی مدد نہیں کی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے پہلے 550 کروڑ روپئے کے مالیاتی پیکیج کا اعلان پھر 250 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ اس طرح می سیوا مرکز سے متاثرین میں 10 ہزار روپئے کی امداد تقسیم کی جارہی تھی۔ لیکن بی جے پی اور کانگریس نے اس میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ حق تلفی کی ہے۔ ایسی جماعتوں کو ووٹ مانگنے کا بھی حق نہیں ہے۔ کے کویتا نے شہر کے عوام بالخصوص سکندرآباد پارلیمانی حلقہ کے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ مالی امداد میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور مرکز سے ایک پیسہ کی امداد نہ ملنے کے تعلق سے مرکزی مملکتی وزیر جی کشن ریڈی سے وضاحت طلب کریں۔ کرونا بحران لاک ڈائون کے بعد جو مالی مسائل پیدا ہوئے تھے اس کے باوجود ٹی آر ایس حکومت نے تمام فلاحی اسکیمات کو جاری رکھا اور غریب و ضرورتمند عوام کی مکمل مدد کی۔ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں گزشتہ 6 سال کے دوران گریٹر حیدرآباد کی ترقی کے لیے 67 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔