شاہین باغ۔ سردی کی وجہہ سے معصوم کی موت‘ والد کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران بیمار ہوگئی تھی

,

   

منگل کے روز جامعہ نگر میں مذکورہ بچے کی ماں 24سالہ نازیہ نے کہاکہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی
نئی دہلی۔مبینہ طور پر سردی کی وجہہ سے ایک چاہ ماہ کی معصوم کی29جنوری کی رات میں موت ہوگئی جس کے والدین شاہین باغ میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں‘ ا

سپتال میں جہاں بچے کو لے کر گئے تھے کا کہنا ہے کہ ایک پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہہ بتائی جاسکتی ہے۔

منگل کے روز جامعہ نگر میں مذکورہ بچے کی ماں 24سالہ نازیہ نے کہاکہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

اسٹیج کے قریب اپنے دو بچوں ایک سال کا بیٹا اور پانچ سال کی بیٹی کے ساتھ دھرنے پر بیٹھی نازیہ نے دعوی کیاکہ نیا شہریت قانون اس کے بچے کی موت کی اصل وجہہ ہے۔

نازیہ نے کہاکہ ”میں اس کو یہاں پر مستقبل کی لڑائی کے احتجاج میں لے کر ائی تھی۔ وہی ایک اس جدوجہد کا گواہ تھا‘ اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ وہ کھیلتا تھا۔ ترنگے پر مشتمل بینڈ مظاہرین نے اس کو دیاتھا۔

وہ اس کو بہت محبت کرتے تھے“۔ نازیہ کے شوہر محمد عارف ایمبرائیڈری شاہ میں کام کرتے ہیں‘ مگر ان کا دعوی ہے کہ پچھلے ماہ جامعہ میں تشدد کے بعد انہوں نے کام چھوڑ دیا اور اس کے بعد سے ای رکشہ سروس چلارہے ہیں۔

مذکورہ والدین کا کہنا ہے کہ معصوم محمد جہاں کی آخری تصویر احتجاج کے مقام پر لی گئی تھی جو لوگوں کی جانب سے دیاگیا بینڈ کے ساتھ تھی۔ نازیہ نے مظاہرین کو بتایا کہ”میں کسی سے پریشان نہیں ہوں۔ پہلے ہی میرے ایک بچے کا نقصان ہوا ہے۔

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے مگر میرے دوسرے بچوں کی اس عظم کاز کے لئے جان چلی جاتی ہے تو۔ ہوسکتاہے میرے گھر والے میرے فیصلے کی حمایت نہیں کریں گے‘ مگر یہ کام بہت عظیم ہے“۔

جس رات میں معصوم کی موت ہوئی اس کو یاد کرتے ہوئے عارف نے کہاکہ ”جنوری 29کے روز نازیہ بچوں کے ساتھ رات 10بجے کے قریب گھر واپس لوٹی۔ انہوں نے کہاکہ جہاں کو بخار ہے۔

میں نے اسکو کچھ دودھ دیا اور ہم لوگ سوگئے۔ رات 2:30کے قریب جہان رونے لگے اورہم نے فیصلہ کیااگلے روزہم اس کو اسپتال لے کر جائیں گے۔ مگر صبح میں ہم نے اس کو مردہ پایا۔

سانس بند ہوگئی تھی اس کی“۔والدین کو اس الشفا ء اسپتال لے کر گئے جہاں پر ڈاکٹرس نے آمد پر ہی معصوم کومردہ قراردیا۔ اسپتال کا کہنا ہے کہ انہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔