اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پیر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا کہ وہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کے سلسلے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بھائی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرے گی یا نہیں۔شریف برادران کے خلاف دائر درخواست کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف بیماری کے باعث لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے اور ان کے بھائی نے بیان حلفی دیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سپریمو علاج کے بعد وطن واپس آجائیں گے ، لیکن حقیقت میں سابق وزیراعظم اب تک وطن واپس نہیں آئے ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز کو ‘مجرم’ قرار دیا جائے اور دونوں بھائیوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں معاملے کی سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل سید ظفر علی شاہ نے مسٹر شہباز کو حلف نامہ دینے کے بعد لاہور ہائی کورٹ حکم جاری کیا تھا جبکہ آئی ایچ سی نے مسٹر نواز کی دو اپیلوں پر سماعت کی تھی۔ درخواست گزار شاہ نے مزید کہا کہ نواز شریف نے آئی ایچ سی سے ضمانت پر رہتے ہوئے ملک چھوڑ دیا اور وفاقی کابینہ نے انہیں 2.5 کروڑ روپے کی شرط کے ساتھ بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کا نام سابق وفاقی کابینہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے واپس لے لیا تھا اور ہائی کورٹ میں اپیل زیرسماعت ہونے کے باوجود حکومت نے ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔