ماجدؔ دیوبندی
اُردو زبان …!
نفرتوں کی فضاؤں میں رہ کر
پیار کا آسمان رکھتے ہیں
جس کے نعروں سے پائی آزادی
ہم وہ اُردو زبان رکھتے ہیں
…………………………
مسند پر لٹیرے …!!
اس دیس کی مسند پر لٹیروں کو بٹھایا
جس دیس کو انگریز کے پنجے سے چھڑایا
کیوں خونِ شہیداں کا صلہ ہم نے گنوایا
ساحل پر لگے بیڑے کو طوفاں میں اُتارا
ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا
ائے قوم تو دے مل کے اگر ساتھ ہمارا
مرسلہ : محمد امتیاز علی نصرتؔ
…………………………
فرید سحرؔ
غزل (طنز و مزاح)
جب سے آزادی ملی ہے دوستو
ہر طرف داداگری ہے دوستو
جس کی لاٹھی ہے اُس کی بھینس اب
ورنہ گھر میں مفلسی ہے دوستو
روز اُن کی سنتے ہیں ہم جھڑکیاں
یہ بھی کوئی زندگی ہے دوستو
کرکے شادی ہم بہت خوش تھے مگر
چار دن کی چاندنی ہے دوستو
حال نیتاؤں کا کچھ نہ پوچھئے
اُن کو بس اپنی پڑی ہے دوستو
چور ، ڈاکو رہتے تھے پہلے کبھی
جیل میں اب منتری ہے دوستو
سرخرو ہیں دیش کے نیتا بہت
دار پر جنتا چڑھی ہے دوستو
دوست اب سچا کوئی ملتا نہیں
جس کو دیکھو مطلبی ہے دوستو
ہے کہاں محفوظ عورت بھی یہاں
اُس کی عزت پر بنی ہے دوستو
بم دھماکے ملک میں جب بھی ہوئے
بجلی ہم پر ہی گری ہے دوستو
خون ہم نے بھی دیا اِس دیش کو
پھر بھی ہم سے دشمنی ہے دوستو
شک وہی کرتے ہیں ہم پر اے سحرؔ
جن کے دل میں گندگی ہے دوستو
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’اب تیرا کیا ہوگا کالیا…!!‘‘
٭ ووٹر لسٹ کی شفافیت کے نام پر کی جارہی’’خصوصی گہری نظرِ ثانی‘‘SIR کے عمل میں ملک کے ہر شہر میں لاکھوں افراد کے نام ووٹرلسٹ سے کٹ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل خبر آئی تھی کہ کولکتہ میں انگریزی روزنامہ ’’ٹیلی گراف ‘‘کے سابق ایڈیٹر آر راج گوپال کا نام لسٹ سے حذف کردیاگیا۔ اب تازہ خبر کے مطابق بنگلورو (کرناٹک) میں فلم اسٹار پرکاش راج کا نام بھی کٹ گیا ہے۔
یہ تو ہوئے بڑے لوگ جن کی آواز ہے، رُسوخ ہیں۔ مگر ملک کے ان کروڑوں لوگوں کا کیا ہوگا جن کی آواز اور رسوخ تو کُجا اُن کے پاس بطورِ ثبوت کوئی کاغذ تک نہیں۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے وقت 27 لاکھ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہونے کے اس گمبھیر مسئلہ کو یہ کہہ کر ٹال دیا گیا تھا کے ان کے بارے میں آئندہ الیکشن میں سوچا جائے گا۔ اب شائد الیکشن کمیشن بھی ان غریب و نادار افراد کے مسئلہ کو ہلکے میں لیتے ہوئے کہے گا ؎
’’اب تیرا کیا ہوگا کالیا… ‘‘
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
آزادی کے لئے …!
٭ ایک شخص وکیل کے پاس بیٹھا ہوا غصے کے عالم میں اس سے کہہ رہا تھا :
’’ تم طلاق دلانے کیلئے پانچ سو روپئے فیس مانگ رہے ہو جبکہ شادی کرنے میں صرف سو روپئے خرچ ہوئے تھے‘‘ ۔
وکیل نے سمجھاتے ہوئے کہا :
’’ لیکن میرے دوست ! آزادی کے لئے ہمیشہ بڑی قربانی دی جاتی ہے ‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
فرق …!!
٭ بادشاہ نے ایک مسخرے غلام سے پوچھا کہ تو تاش کھیلنا جانتا ہے …!؟
اُس نے جواب دیا : ’’میں بادشاہ اور غلام میں فرق نہیں کرسکتا …!!‘‘
خورشید جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………