صبر حسین ؑ محافظ بنیاد کعبہ

   

سید علی طاہرؔ عابدی
صحرائے حیات میں سروں کے چراغ روشن ہیں جو اپنے خون کی بوندوں سے آج بھی نعرہ اللہ اکبر بلند کررہے ہیں۔ شہادت کو افتخار و اعتبار بخشنے والوں کا ایک قافلہ ہے جو آج بھی شاہ راہ زمان و مکان کو منور کرتے ہوئے رواں دواں ہے ۔ دنیا شاہد ہے کہ ہر کمال اپنے دور اور اپنے زمانے کے حصار میں رہا ۔ اس کا پیغام اس کی ذات اور اس کے وجود تک باقی رہا ۔ لیکن کائنات کی واحد شخصیت ہے جس نے تسلسل نور ہدایت دنیا کے سامنے پیش کیا اور نظریات کو عمل کی روشنی دے کر دنیا کےلئے راہ ہدایت اور راہ نجات متعین کردی ۔ اور دنیا کویہ بھی سمجھا دیا کہ اُسوہ محمدؐ کے پیکر کو دیکھنا ہوتو کربلا میں مجسم حسین ؑ کی شکل میں دیکھو۔شہادت حسین ؑ دراصل صبر و جرأت محمد ؐ کا عملی مظاہرہ ہے ۔ کیونکہ حضرت محمدؐنے واضح طور پر یہ کہہ دیاتھا کہ ’’حُسَیْنُ مِنِّی وَأَنَا مِنَ الْحُسَیْن‘‘کمال محمدؐ ، جمال محمدؐ ، جلال محمدؐ، سب کے سب یکجا پیکر حسین ؑ میں نظر آئیں گے ۔ تاریخ انسانیت میں پائے جانے والے معجزات ہوں یا انسانوں کے وہ کارنامے جو عقل کو مبہوت و متحیر کردیتے ہیں اُن سے آج کا انسان اور انسانی ذہن مرعوب تو ہوسکتا ہے ، مگر دولت آگہی نہیں حاصل کرسکتا ۔ لیکن حضورؐ نے جو معجزہ ٔقرآن پیش کیا وہ معجزہ مسلسل ہے اور تا قیام قیامت باقی رہے گا۔ انبیاؑ کی تاریخ گواہ ہے کہ حضور کے پیش کردہ معجزۂ (قرآن)مسلسل ہونے کے ساتھ ساتھ عقل کو عاجز کرکے احساس شکست سے آشنا کرنے کے بجائے اس کی رہنمائی بھی کرتا ہے اور اسے جلا بھی بخشتا ہے ۔ سرکار دوعالمؐ نے پہلی بار انسانیت کو لفظ حق سے آشنا کرایا۔حقیقت محمدؐ ازل سے ابد تک ہے ۔ پیغام محمدؐ نے کعبہ کو ابدی استحکام بخشا ۔ کعبہ کو اعلان توحید کا مرکز بنایا ، کعبہ کو سلسلہ نبوت کا مظہر بنایا، کعبہ کو جلال الٰہی کی تعبیر بنایا۔ مگر محافظ پیغام محمدؐ یعنی حسینؑ ابن علی ؑ نے کربلا کو دلیل وحدانیت بنادیا، کربلا کو وارث رسالت ؐ بنادیا ، کربلا کو جمال الٰہی کی تصویر بنادیا، جہاں کعبہ رضائے الٰہی کے حصول کی تمنا ہے وہاں کربلا نفس مطمئنہ کا سراپا ہے ۔ واقعہ کربلا دنیا کا واحد واقعہ ہے جہاں صبراور صلواۃ ایک جگہ نظر آئے ۔ صبر حسینؑ کبھی علیؑ کی شمشیر، صبر حسینؑ کبھی زینبؐ کی تقریر، صبر حسین ؑ کبھی سید سجادؑ کا حوصلہ ، صبر حسینؑ کبھی حبیب ابن مظاہر کا عزم ، صبر حسینؑ کبھی علی اکبرؑ کی جرأت ، صبر حسین ؑ کبھی عباسؑ کا ضبط ، صبر حسینؑ کبھی شہیدان کربلا کا استقلال، صبرحسینؑ نوک نیزہ پر سورہ کہف کی تلاوت، صبر حسینؑ محافظ بنیاد کعبہ ۔
اب چشم بصیر ت سے مشاہدہ کیجئے اور کہیں کہ کس طرح صبر حسینؑ نے حاکمیت الٰہی کا اعلان و اثبات کیا۔معبودان باطلہ کی نفی کی اور یہی سنت الٰہی ‘انبیاؑ کی تاریخ میں نظر آئی اور پھر مکمل ہوکر عزم مصطفیؐ بن کر ظاہر ہوئی ، ہرنبیؑ کا عزم اُس کی ذات تک محدود رہا لیکن کیا کہنا عزم مصطفیؐ کا جو صبر حسینؑ بن کر ساری کائنات پر محیط ہوگیا۔ آج غم حسینؑ نے ساری کائنات کو مسخر کرلیا ہے اورآج خواب ابراہیمؑ، جذبہ اسماعیلؑ ، انسانیت کی سربلندیاں ، فتحیابیاں ،قرآن کی عظمت ، اسلام کی صداقت سب کے لبوں پر ایک ہی صدا ہے ؎
علاج گردش لیل و نہار ہے اس میں
قدم قدم پہ مسیحائے جاں بنا تراغم