موغادیشو 2 مئی (ایجنسیز) صومالیہ میں قحط کی خطرناک کیفیت اور غیرملکی امداد میں سخت کمی کے باعث دوہری آفت سے دو چار اس ملک کے بچوں کے لیے ، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ محض پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہٹ کر موت و زندگی کی کشمکش بن چکی ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ،بین الاقوامی ا مداد کی ترسیل میں رکاوٹوں کی بنا پر زندگی بچانے والی تھراپیوٹک غذا کی قلت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ پولی کلینک شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو خالی ہاتھ واپس بھیج رہے ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً نصف ملین بچے ’’شدید غذائی قلت‘‘ یا “ویسٹنگ” کا شکار ہیں، جو بھوک کی سب سے جان لیوا صورت ہے، اور ترسیلات میں تاخیری، امدادی کمی کے اثرات کو مزید ابتر کر رہی ہے۔ بایدوہ اور موغادیشو میں صحت کے کارکن کہتے ہیں کہ بچوں کو بچانے کے لیے ضروری، مخصوص دودھ اور مونگ پھلی پیسٹ کے اسٹاکس موجود نہیں۔ نرس حسن یحیٰ خیری نے کہاکہ چونکہ ضروریات بہت زیادہ ہیں اور ہمارے پاس رسد کم ہے، ہمیں بچوں کو دی جانے والی مقدار میں بار بار کمی کرنی پڑی ہے۔ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے مطابق اس کے کلینک میں باقی رہنے والے 225 کارٹن مونگ پھلی کی پیسٹ، جو ایک ہزار 200 سے زائد بچوں کا علاج کرتا ہے، ممکنہ طور پر دو ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔