یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
دارالحکومت دہلی میںکاکروچ جنتا پارٹی کا پارلیمنٹ مارچ توقع سے زیادہ کامیاب رہا ۔ جہاں حکومت کو اس احتجاج کی اتنی بڑی کامیابی کی امید نہیں تھی وہیں کچھ احتجاج کے حامی بھی اندیشوں کا شکار تھے اور یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ خاطر خواہ تعداد میں نوجوان اس احتجاج کا حصہ بننے سے شائد گریز کریں۔ تاہم نوجوانوں نے یہ بتادیا کہ وہ اپنے مسائل پر کسی پر انحصار کرنے کی بجائے اب اپنی لڑائی خود لڑیں گے اور اپنے مطالبات کی تکمیل کیلئے وہ احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے باب الداخلہ تک پہونچنے سے بھی گریز نہیںکریں گے ۔ حالانکہ سوشیل میڈیا پر لگاتار اس احتجاج کے تعلق سے تشہیر کی جا رہی تھی لیکن جہاں تک نام نہاد قومی میڈیا کا تعلق ہے تو انہوں نے اس انتہائی اہم اور حساس مسئلہ پر بھی اپنی مجرمانہ چاپلوسی اور غفلت کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور صرف حکومت کی مدح سرائی میں مصروف رہے تھے اور اس احتجاج کو اہمیت دینے سے انکار کیا ہوا تھا ۔ تاہم آج جس طرح سے پارلیمنٹ مارچ ہوا اور پولیس کی جانب سے رکاوٹوں کے باوجود نوجوانوں کی جتنی تعداد نے اس میںحصہ لیا اس نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے ۔ پارلیمنٹ مارچ کے محض ابتدائی دو گھنٹوں میںصورتحال کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے بات چیت کی راہ اختیار کرنے میںہی عافیت سمجھی اور سی جے پی کو پہلی مرتبہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے نمائندوں کو بات چیت کیلئے مدعو کردیا ۔ سی جے پی کے دو نمائندوں نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی ۔ اپنے مطالبات کا چارٹر ان کے حوالے کیا ۔ جے پی نڈا نے سوشیل میڈیا پر یہ واضح کیا کہ خوشگوار انداز میں ملاقات ہوئی ہے ۔ سی جے پی نے بھی ملاقات کی توثیق کی اور بتایا کہ مطالبات حکومت کو پیش کردئے گئے ہیں۔ ان مطالبات پر حکومت کا کیا جواب ہوگا یا کیا موقف اختیار کیا جائے گا اس بات سے قطع نظر سی جے پی کو بات چیت کیلئے مدعو کرنا ہی نوجوانوں کی پہلی کامیابی ہے ۔ نوجوانوں نے اپنے صبر و تحمل اور پرا من احتجاج سے اپنے وجود کا احساس ضرور دلادیا ہے ۔
حکومت کی جانب سے بات چیت کیلئے مدعو کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت کو تاخیر سے ہی صحیح اس احتجاج کی شدت اور نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ حالانکہ ماحولیاتی جہد کار سونم وانگ چوک دواخانہ میںشریک ہیںاور وہ اس احتجاج میںشامل نہیں ہوسکے تھے اس کے باوجود نوجوانوں کا جو سیلاب امڈ پڑا تھا اس کے نتیجہ میںحکومت کی آنکھیںکھل گئی لیں۔ حکومت کو سی جے پی کے وجود کو تسلیم کرنا پڑا ہے ۔ ان کے احتجاج کا نوٹ لیتے ہوئے انہیں بات چیت کیلئے مدعو کرنا پڑا ہے ۔ حکومت اس کا کیا جواب دے گی یہ ایک الگ بحث ہوسکتی ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ سی جے پی اور اس کی حمایت کرنے والے طلباء و نوجوانوں کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس سے ان کے حوصلے بلند ہوسکتے ہیں ۔ نوجوانوں نے یہ واضح کردیا کہ وہ اپنے بل پر اپنے مطالبات حکومت کو راست پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور حکومت لاکھ انکار کرے لیکن نوجوانوں کی اہمیت کو اسے بالآخر تسلیم کرنا ہی ہوگا ۔ پارلیمنٹ کے باب الداخلہ تک پہونچنا بھی نوجوانوں کے احتجاج کی کامیابی کی علامت ہے ۔ ایک ماہ کی جو پرامن جدوجہد تھی وہ بالآخر رنگ لائی ہے اور حکومت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہی پڑا ۔ حکومت اگر پہلے ہی بات چیت کی راہ اختیار کرلیتی تو شائد نوجوانوں میں غم و غصہ اتنا زیادہ نہیںہوتا جتنا آج احتجاج کے دوران دیکھنے میں آیا ہے ۔
اب جبکہ حکومت نے اس احتجاج کا نوٹ لیا ہے اور سی جے پی کو بات چیت کیلئے مدعو کیا ہے ۔ بات چیت ہوئی بھی ہے تو حکومت کو ان کے مطالبات کے تعلق سے ہمدردانہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوںکی تشویش کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ نوجوانوں میںاعتماد بحال کرنا اور شعبہ تعلیم کی صورتحال کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے ۔ نوجوانوںکو بھی اپنے مطالبات کیلئے قانون کے دائرہ میںرہتے ہوئے پرامن احتجاج کی اہمیت سمجھتے ہوئے کسی بہکاوے کا شکار نہیںہونا چاہئے ۔