عآپ کی رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے نرسنگ آنند کی پشت پناہی کرنے کا بی جے پی لگایا الزام

,

   

خان نے کہاکہ”ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اس کے پس پرد ہ ہے‘ بصورت دیگر یہ ممکن نہیں ہے کہ حکومت اس طرح کی نفرت پھیلانے والے لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کرے“


حیدرآباد۔اوکھلا سے عام آدمی پارٹی(اے اے پی) کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے مرکزی حکومت پر نفرت پھیلانے والے سادھو یاتی نرسنگ آنند سرسوتی کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے‘حال ہی میں جس نے پیغمبر اسلامﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے۔

خان جو دہلی وقف بورڈ کے چیرمن بھی ہیں نے ایک ویڈیو بیان اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ جاری کیا او رکہاک”ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اس کے پس پرد ہ ہے‘ بصورت دیگر یہ ممکن نہیں ہے کہ حکومت اس طرح کی نفرت پھیلانے والے لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کرے“۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی مسلمان شخص کسی مذہب کے خلاف اس قسم کی بات کرتاتو وہ اب تک سلاخوں کے پیچھے ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ”بی جے پی حکومت نرسنگ آنند جیسے لوگوں کی حمایت کررہی ہے اور کوئی کاروائی اس خلاف نہیں کررہی ہے‘ باوجود اسکے اور میرے آواز اٹھانے پر میرے خلاف ایک ایف ائی آر درج کی گئی ہے“

پریس کلب آف انڈیا میں بات کرتے ہوئے دسانا دیوی مندر کے صدر سادھو معلون نرسنگ آنند سرسوتی جو اپنے نفرت انگیز بیانات کے لئے جانا جاتا ہے 3اپریل کے روز پیغمبر اسلامﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔

جس کے بعد سوشیل میڈیاپر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور 4اپریل کے روز دہلی پولیس نے نرسنگ آنند کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے پر ایک ایف ائی آر درج کی ہے۔


امانت اللہ خان نے دہلی پولیس کو نرسنگ آنند کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہاکہ مذکورہ ملعون نرسنگ آنند اور اس کے ساتھ مسلسل پیغمبر اسلامﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کررہے ہیں اور یہ وہ ہے ”جس کو ہندوستان او ردنیا بھر کے مسلمان کبھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاک”ہمارے جذبات سے کھلواڑ بندکیاجائے“۔اپنے اوپر ایف ائی آر درج کرنے پر خان نے دہلی پولیس پر شدید حملہ کیا۔ خان نے کہاکہ ”مجھے ڈرانے او رخوف دلانے کے لئے ہی انہوں نے ایسا کیاہے۔

وہ نہیں چاہتے کہ ہماری آواز اٹھے‘ ہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی ہمارے پیغمبر ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ تو ہم اپنی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتا ہے“۔

انہوں نے مزید کہاکہ وہ ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف احتجاج بلائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ”اگر کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے تو پھر ہر ایک مسلمان ہندوستان کا سڑکوں پر اتر ائے گا اور وہ نرسنگ آنند جیسے لوگوں کے خلاف کاروائی خودکریں گے“