عوامی مسائل پر کانگریس کا 21 نومبر تا 5 دسمبر احتجاج

   

بنگال جیسی صورتحال پیدا کرنے کا ٹی آر ایس و بی جے پی پر الزام۔ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے عوامی مسائل کے خلاف احتجاج کیلئے تیار ہوجانے کا پارٹی کیڈر کو مشورہ دیا ۔ اے ریونت ریڈی نے آج شام زوم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کسانوں کے قرضوں کی معافی ، بنجر اراضیات کی تقسیم کے علاوہ دوسرے وعدوں کو نبھانے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ جس کے خلاف کانگریس نے دیہاتوں سے ریاستی سطح تک احتجاج مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 21 نومبر کو شہر میں دستیاب رہنے والے کانگریس قائدین کا ایک وفد چیف سکریٹری سومیش کمار سے ملاقات کرکے ایک یادداشت پیش کرے گا ۔ 24 نومبر کو ریاست کے تمام منڈل ہیڈکوارٹرس پر احتجاج درج کروایا جائیگا ۔ 30 نومبر کو اسمبلی حلقوں کے ہیڈ کوارٹرس پر صبح 11 تا شام 5 بجے تک احتجاجی دھرنے منظم کئے جائیں گے ۔ 5 دسمبر کو تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر احتجاج کرتے ہوئے کلکٹرس کو یادداشتیں پیش کی جائیں گی ۔ ضلع ہیڈکوارٹرس کے احتحاجی دھرنوں میں ریاستی سطح کے قائدین بھی حصہ لیں گے ۔ اس کے بعد مستقبل کی حکمت عملی کیلئے ایک اور اجلاس طلب کرکے پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریونت ریڈی نے ٹی آر ایس و بی جے پی پر آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے بنگال جیسی صورتحال پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ زوم اجلاس میں ملو بٹی وکرامارک ، اتم کمار ریڈی ، سریدھر بابو ، ستیا اکا ، گیتا ریڈی ، مدھو گوڑ یشکی ، دامودھر راج نرسمہا ، پونالہ لکشمیا ، اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو ، ندیم جاوید ، سمپت کمار ، پی اے سی کنوینر محمد علی شبیر اضلاع صدور کانگریس محاذی تنظیموں کے صدور نشین کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی ۔ ن