فارنسک نے پہلو خان کلپس پر پیش کی صفائی‘ پولیس کا بیان شکوک وشبہات کا سبب بن رہا ہے۔

,

   

یکم اپریل 2017کے روز خان کو دہلی جئے پور ہائی وے پر راجستھان کے ضلع الور میں بہرور کے قریب ہجومی تشدد کا نشانہ بنایاگیا‘ وہ جئے پور کی مارکٹ سے میویشی گاڑی میں لاد کر ہریانہ میں اپنے آبائی گھر نوح کو لے جارہے تھے۔ انہوں نے اپنی موت سے قبل دئے گئے بیان میں چھ حملہ آوروں کے نام لئے جنھیں 14اگست کے روز عدالت نے بری کردیا۔

جئے پور۔ راجستھان کے ضلع الور میں ڈائیری فارم کسان پہلو خان پر کئے گئے حملے پر مشتمل دو ویڈیو کلپس کو سرکاری فارنسک لیاب نے درست قراردیا ہے مگر تحقیقات عہدیداروں کے متضاد بیانات کی وجہہ سے اس کی اہمیت اور اہم گواہ کے طور پر اس کو محفوظ کرنے میں ناکامی کی اصل وجہہ رہی ہے‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کو اس بات کی جانکاری حاصل ہوئی ہے۔ایچ ٹی نے جو فارنسک رپورٹ کامشاہدہ کیاہے‘

دو علیحدہ ویڈیوزیکم اپریل2017کے روز شوٹ کئے گئے‘ جس میں ہجومی 55سالہ خان پر حملہ کررہا ہے‘

او ران ویڈیوز کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے۔جئے پور کی اسٹیٹ فارنسک سائنس لیباریٹری کی جانب سے20جولائی 2018کو جاری کردہ رپورٹ میں کچھ اس طر ح لکھا گیاہے”واقعہ پر مشتمل دوعلیحدہ ویڈیو ز میں کوئی بھی سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے“۔

ایڈیشنل ضلع جج ساریتا سوامی نے 14اگست کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں اس با ت کا ذکر بھی کیاکہ مذکورہ فارنسک رپورٹ ایک جملے میں‘ مگر اس کو اہم گواہ کے طور پر تسلیم نہیں کیاجائے گا۔

سوامی نے مانا کہ چار میں سے دو تحقیقاتی افیسر اس معاملہ میں رامیش سنسن وار اور پارامل سنگھ نے کہاکہ ویڈیوکو فارنسک جانچ کے لئے نہیں بھیجا گیا حالانکہ فارنسک لیاب رپورٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ تھی۔

یکم اپریل 2017کے روز خان کو دہلی جئے پور ہائی وے پر راجستھان کے ضلع الور میں بہرور کے قریب ہجومی تشدد کا نشانہ بنایاگیا‘ وہ جئے پور کی مارکٹ سے میویشی گاڑی میں لاد کر ہریانہ میں اپنے آبائی گھر نوح کو لے جارہے تھے۔

انہوں نے اپنی موت سے قبل دئے گئے بیان میں چھ حملہ آوروں کے نام لئے جنھیں 14اگست کے روز عدالت نے بری کردیا۔مذکورہ فیصلہ جس میں چھ لوگوں کو بری کردیاگیا جنھیں مذکورہ ویڈیوز کی بنیاد پرشناخت کے بعد ہی گرفتار کیاگیاتھا۔

مذکورہ فیصلہ میں یہ بات بھی دیکھنے میں ائی ہے کہ تحقیقات میں بے شمار کوتاہیاں ہیں جسکی وجہہ سے ملزمین کو ”شبہ کی بنیاد پر ہونے والے فائدے“ کے حوالے سے بری کردیاگیا ہے۔

اس کے علاوہ سوامی نے پولیس کو اسبات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جس موبائیل فون سے ویڈیو نکالا گیا اس کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا‘

تاکہ مذکورہ آلہ کی مالکانہ حق کو قائم کیاجاسکے اور ویڈیو کی فلم بندی اور پولیس تحویل میں اس کو ختم کرنے کے درمیان میں پیش انے والے واقعات میں تسلسل کی کمی بھی ہے

۔حکومت راجستھان نے مبینہ کوتاہیوں کی جانچ کے احکامات جاری کئے ہیں اور کہاکہ وہ 14اگست کو پیش ائے نچلی عدالت کے فیصلے پر اونچی عدالت میں اپیل کریں گے۔

اس کیس کے مزید تین ملزمین نابالغ ہیں۔پبلک پراسکیوٹر یوگیندر سنگھ سے فون یا ایس ایم ایس کے ذریعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل‘ اسپیشل اپریشن گروپ نتن دیپ بالاگان جو ایس ائی ٹی کی قیادت کررہے ہیں تحقیقات میں پیش آنے والی خامیوں کی جانچ کررہے ہیں‘

انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا عجلت کی بات ہوگی۔

سنسن وار اورپرامال سنگھ جس جب بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی جانب سے کوئی ردعمل ہمیں نہیں ملا۔مگر ایک او رسینئر افیسر جنھوں نے شواہد کی دوبارہ جانچ کی ہے نے کہاکہ مذکورہ متضاد بیانات چھ ملزمین کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی ایک شخص جس کی شناخت پولیس نے فون کے مالک کے طور پر کی گئی تھی وہ عدالت میں گمراہ ہوگیاتھا۔

مذکورہ افیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ ”فون کے مالک وہی اور ویڈیو حقیقی ہیں اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی جستجو نہیں کی گئی تھی“