مایاوتی نے ووٹر فہرستو ں اور آئندہ انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا

   

لکھنؤ، 04 اکتوبر (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بسپا) کی قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اتوار کو اتراکھنڈ کے پارٹی کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ اہم میٹنگ کرکے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد کی صورتحال، آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں اور تنظیم کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔بسپا کے اتراکھنڈ انچارج اور سابق رکن پارلیمنٹ منقاد علی کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ میں الیکشن کمیشن کی ایس آئی آر کے بعد ووٹر فہرست میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ اتراکھنڈ اور پنجاب میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے امکانات اور مضبوط امیدواروں کے انتخاب کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، میٹنگ میں بوتھ سطح تک تنظیم کو مضبوط بنانے کے ساتھ ایس آئی آر کے تحت ووٹر فہرست سے باہر کیے گئے لوگوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم ہونے سے بچانے پر خصوصی زور دیا گیا۔بسپا نے کہا کہ خاص طور پر غریبوں، نوجوانوں، خواتین اور کمزور طبقات کے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں شامل کرانے کی کوشش پارٹی کی سطح پر مسلسل جاری رہنی چاہیے ۔مایاوتی نے اتراکھنڈ حکومت کے مبینہ غریب اور عوام مخالف طرز عمل پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی فلاح کے بجائے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور دولت مند طبقے کے مفادات کے تئیں زیادہ وقف نظر آتی ہے۔
جو آئندہ انتخابات میں ایک اہم مسئلہ رہے گا۔بسپا نے اتراکھنڈ میں تنظیمی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے ساتھ آئندہ 9 اکتوبر کو پارٹی کے بانی کانشی رام کی برسی کے موقع پر پروگراموں کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔ مایاوتی نے ہدایت دی کہ برسی کا پروگرام پوری مشنری جذبے کے ساتھ منعقد کیا جائے ۔