یوکرین کے ساتھ بھی بات چیت کیلئے تیار ہوں۔ صدر روس ولادیمیر پوٹن کا بیان
ماسکو‘ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ وہ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یوکرین جنگ اور توانائی جیسے مسائل پر بات کرنے ملاقات کرنی چاہیے ۔ پوٹن نے روس کے سرکاری چینل روسیا ۔ 24 کو موجودہ مسائل پر بیانات دیے ۔امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت سے کبھی پیچھے نہ ہٹنے کا ذکر کرتے ہوئے پوٹن نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے رابطوں سے انکار کیا اور یہ ہماری غلطی نہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے موجودہ امریکی صدر کے ساتھ ہمیشہ سے کاروبار پر مبنی اور اعتماد کی بنیاد پر عملی تعلقات رہے ہیں۔ اگر 2020 میں ٹرمپ سے ان کی فتح نہ چھین لی جاتی تو یوکرین میں 2022 کے بحران ممکنہ طور پر نہ ہوتا اور ہم دونوں اس پر متفق ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے پہلے پہل روس پر پابندیاں عائد کرنے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے پوٹن نے کہا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے بھی پابندیاں لگانے کا راستہ اختیار کیا۔سابق امریکی انتظامیہ سے روس کیلئے ڈالر کے استعمال پر پابندی کا ذکر کرتے ہوئے پوٹن نے کہا کہ اس فیصلے سے وہ خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔روسی صدر نے ٹرمپ کے ان بیانات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہ وہ روس کے ساتھ دوبارہ کام کرنے تیار ہیں کہاکہ ہمارے دروازے ہمیشہ سے کھلے ہیں، موجودہ حقائق کی بنیاد پر یہ بہتر ہو گا کہ ہم امریکہ اور روس کے تمام معاملات پر پُر سکون طریقے سے بات کریں ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ یوکرین سے بات چیت کیلیے تیار ہیں، لیکن کچھ معاملات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے ، پوٹن نے کہا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ مذاکرات پر پابندی لگا دی تھی۔