مسلمانوں کو سی اے اے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جماعت سربراہ

,

   

سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے شہریت(ترمیم) قانون 2019کے قوانین لوک سبھا انتخابات سے قبل مطلع کرنے کے اعلان کے کچھ دن بعد یہ بیان سامنے آیاہے۔


بریلی۔بریلی نژادکل ہند مسلم جماعت کے قومی صدر مفتی شہاب الدین رضوی نے کہا ہے کہ ”ہندوستان میں مسلمانوں کو سی اے اے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے“۔

سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے شہریت(ترمیم) قانون 2019کے قوانین لوک سبھا انتخابات سے قبل مطلع کرنے کے اعلان کے کچھ دن بعد یہ بیان سامنے آیاہے۔

مفتی نے کہاکہ ”مذکورہ ایکٹ کے قوانین کاتفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ قانون کا ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے اوراس کااثر نہیں ہوگا لیکن افغانستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش کے مہاجرین کے لئے فائدہ مند ہوگا جو ہندوستانی کی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں“۔

سنبھل سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق کے حالیہ ریمارکس پرجس انہوں نے کہاتھا کہ اگر ملک میں سی ا ے اے لاگو ہوتا ہے تو صورتحال سنگین ہوجائیگی‘ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رضوی نے کہاکہ ”برق لوگوں کو خوفزدہ کرنے او رگمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ دھماکہ خیز بیان جاری کرنے سے قبل انہوں قانون کا مطالعہ کرنے او رحقیقت کو سمجھنے چاہئے۔

ایسی بات کسی رکن پارلیمنٹ کی بدگمانی ظاہر کرتی ہے“۔انہوں نے مزیدکہاکہ ”یہ قانون محبت نہیں صرف نفرت پھیلائے گا۔ ملک چلانے کے لئے ہمیں محبت کی ضرورت ہے۔

حالات آنے والے دنوں میں خراب ہوجائیں گے“۔

سی اے اے کے تعارف نے 2019میں ملک کے مختلف شہریوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی وجہہ بناجس کی وجہہ سے کئی اموات بھی ہوئے ہیں۔

پارلیمنٹ میں جب بل پیش کیاگیا تب4ڈسمبر 2019کو آسام میں پہلا احتجاج رونما ہوا۔ دہلی کے بشمول فوری یہ بڑی شہروں میں پھیل گیا۔ ڈسمبر کے اختتام تک 27اموات کا سبب یہ احتجاجی مظاہرے بنے‘ جس میں 22اموات تو محض اترپردیش میں ہوئے ہیں۔

ہزاروں لوگ گرفتار کئے گئے اور 300سے زائد مقدمات مظاہرین پر درج کئے گئے تھے۔

رپورٹس کی مانیں تو قوانین اب تیار ہیں اور ایک ان لائن پورٹل بھی قائم کیاجاچکا ہے۔رپورٹس میں کہاگیا کہ یہ ساری مشق ”ان لائن ہوگی اور درخواستیں گذار اپنے موبائل فونوں کے ذریعہ بھی درخواست دائر کرسکتے ہیں“۔