پارلیمنٹ میں صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی کا بیان
نئی دہلی :صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹراسد الدین اویسی نے آج پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتا جس میں مسلمانوں کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ چہارشنبہ کو لوک سبھا میںصدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکرکے دوران، اویسی نے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ سمیت کئی مسائل پر بی جے پی زیرقیادت مرکز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میںایک رکن پارلیمنٹ نے لوگوں سے کہا کہ سبزیاں کاٹنے کیلئے چھریوں کا استعمال کریں ساتھ ہی گلے کاٹنے کیلئے بھی۔ ایک اور رکن پارلیمنٹ نے لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم کمیونٹی کا بائیکاٹ کریں۔ گلبرگہ ریلوے اسٹیشن کا سبزرنگ تبدیل کر دیا گیا کیونکہ یہ مسلمانوں کا رنگ ہے۔ اسد الدین اویسی نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا وہ قومی پرچم سے سبز رنگ کو ہٹا دے گی؟ اویسی نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا مودی حکومت تربوز کے سبز رنگ کی وجہ سے ان کی فروخت پر پابندی عائد کرے گی۔ مرکز کے ناری شکتی اقدام پر اویسی نے کہا کہ بلقیس بانو کو انصاف مل جاتا اگر وہ مسلمان نہ ہوتیں۔ بلقیس بانو بیس سال سے لڑ رہی ہیں اور چونکہ اس کا نام بلقیس بانو ہے اس لیے آپ اس کے ساتھ انصاف نہیں کرنا چاہتے۔پسماندہ مسلمانوں کو بی جے پی سے قریب کرنے کے حالیہ مثبت اشارے کے جواب میں، اویسی نے زعفرانی پارٹی سے کہا ہے کہ ان کو دلت برادری کا درجہ دے، لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ کیا انہیں مذہب کی آزادی نہیں ہے؟ اسد اویسی نے کہا کہ میں ایک مسلمان ہوں‘ یہ ملک میرے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے یرغمال یا قیدی نہیں ہیں۔ انہیں شہریت کے مکمل حقوق چاہئے۔ اویسی نے یہ بھی سوال کیا کہ مرکز سورج پوری اور کلہیا مسلمانوں کو او بی سی کا درجہ کب فراہم کرے گا۔اویسی نے مایوسی کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی آبادی کا 19 فیصد ہونے کے باوجود صدر کے خطاب میں اقلیتوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔’’این ایس ایس او کے اعداد و شمار کے مطابق، کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پچیس فیصد مسلم طلبہ غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں؟ کیا یہ بھی درست نہیں کہ سات سال یا اس سے اوپر کے بچوں میں خواندگی کے لحاظ سے سب سے کم فیصد مسلمانوں کا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مسلم طلباء کی مجموعی حاضری کا تناسب سب سے کم ہے؟ کیا یہ بھی درست نہیں کہ اسکولوں میں سب سے کم داخلہ مسلمانوں کا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (AISHE) کے اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مسلمانوں کا فیصد 5 سے کم ہو کر 4 فیصد پر آ گیا ہے؟ اس سب کے بعد بھی صدر کے خطاب میں اقلیتوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کیلئے مختص بجٹ میں 40 فیصد کی کمی کی گئی ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ مسلمان بچے تعلیم حاصل کریں‘مضبوط ہوں اور قوم کی حمایت کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اقلیتیں غربت اور امتیازی سلوک کا شکار رہیں۔