اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال سے بینائی کی کمزوری و ذہنی دباؤ ، متبادل راستے اختیار کرنے کا مشورہ ’ ون لائف ‘ ادارہ کے سروے میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : آج کے معاشرہ میں بچوں سے لے کر بڑوں تک سبھی اسمارٹ فونس کے غلام ہوگئے ہیں ۔ خاص طور پر بچے اس لعنت کا بہت زیادہ شکار ہوگئے ہیں ۔ بچوں کو منانے اور سمجھانے کے لیے ان کے ہاتھوں میں موبائل تھما دیا جارہا ہے ۔ ہر گھر میں چھوٹے بچوں سے 10 سال تک کے بچے ہاتھ میں موبائل نہ دینے پر کھانا نہیں کھا رہے ہیں ۔ رضاکارانہ ادارہ ’ ون لائف ‘ کے تازہ سروے میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ معاشرے میں زیادہ تر 11 تا 18 سال کے بچے فون اور الیکٹرانک گیجیٹس کے غلام بنتے جارہے ہیں ۔ زیادہ موبائل استعمال کرنے سے آنکھوں کے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ والدین کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل سے دور کرنے کے اقدامات کریں ۔ اندرون 2 سال عمر کے بچوں کو فون ، ٹیاب اور دیگر گیجٹس سے دور رکھیں ۔ چھوٹے بچوں کے والدین یا ان کے بھائی بہن نگرانی کریں ۔ 5 تا 17 سال عمر والوں کو روزانہ 2 گھنٹے سے زیادہ فون استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں ۔ فون سے چپکے رہنے والے بچوں پر والدین کا چیخنا ، چلانا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ سب سے پہلے فون کو ان سے دور رکھنے کے اقدامات کریں ۔ بچوں سے گھروں میں بات چیت کریں ۔ بچوں کو دوسری سرگرمیوں میں مصروف رکھیں ۔ بچوں کو کھیل کود سے قریب کرنے کی کوشش کریں ۔ ان میں نئے مشاغل کی عادت ڈالیں ۔ بچوں میں تخلیقی خیالات کو ابھارا جائے ۔ انہیں عملی جامہ پہنانے کی ترغیب دی جائے ۔ بچوں کو سونے سے پہلے فون نہیں دینا چاہئے ۔ ہفتہ میں ایک دن بغیر فون کے گذارا جائے ۔ مطالعہ کے اوقات میں سوشیل میڈیا سے دور رہے ۔ بچوں میں پنٹنگ ، درختوں پر چڑھنے ، سائیکل چلانے ، سوئمنگ کی عادات ڈالی جائے ۔ بچوں کو سیر و تفریح کو لے جائیں ۔ دوستوں سے باقاعدگی سے ملنے اور سائنس کے تجربات کرتے ہوئے انہیں آہستہ آہستہ فون سے دور کیا جاسکتا ہے ۔ بہت سی غلط فہمیاں فون کو زیادہ دیکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ بینائی کمزور ہوجاتی ہے ۔ ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے ۔ فون کا زیادہ تر استعمال انسانی تعلقات میں بگاڑ کا بھی سبب بن رہا ہے ۔ سماجی زندگی بھی بڑی حد تک متاثر ہورہی ہے ۔ مطالعہ سے دلچسپی ختم ہوجاتی ہے ۔ طبیعت کے جارحانہ موقف میں اضافہ ہورہا ہے ۔ چڑچڑاپن ، مزاج میں تبدیلی ، بے خوابی ، سردرد ، ڈپریشن ، پریشانی وغیرہ جیسے مسائل نشے کی لت کا باعث بن جاتے ہیں ۔ اگر موبائل کے اسکرین کا وقت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ ریڑھ کی ہڈی اور دماغ کا کام بھی خراب ہوجاتا ہے ۔ موبائل اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی دماغ کو متاثر کرتی ہے جس سے نیند زیادہ آتی ہے ۔ موجودہ نسل کے بچے ڈیجیٹل دنیا میں پروان چڑھ رہے ہیں ۔ موبائل فون ، ٹی وی ، کمپیوٹر ان کی زندگی کو متاثر کررہے ہیں ۔ الکٹرانک آلات کے زیادہ استعمال سے بچوں کی آنکھیں ، دماغ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے ۔ بچوں میں موٹاپا بڑھ رہا ہے ۔ دماغی مسائل سے متاثر ہونے پر اس کا تعلیم پر بھی اثر پڑرہا ہے ۔ ایسے میں والدین کا بچوں پر غصہ کرنا بے فیض ہے ۔ متبادل راستے اختیار کرتے ہوئے بچوں کو اسمارٹ فون سے دور کرنے کی حکمت عملی تیار کریں ۔ دوسرے مشاغل کی طرف بچوں کی حوصلہ افزائی کریں ۔۔ 2