محمد نعیم وجاہت
کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی اصل پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں خواتین اور بچے کتنے محفوظ ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں تلنگانہ میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم اور بالخصوص معصوم بچیوں کے ساتھ پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت درج ہونے والے سنگین معاملات نے پوری انسانیت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ صورتحال ہماری نوجوان نسل کے مستقبل اور سماجی تانے بانے کیلئے اس قدر شرمناک ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ عصمت ریزی اور خواتین پر مظالم انسانیت کے خلاف سب سے بڑا گھناؤنا جرم ہے۔ یہ ایک ایسا وحشیانہ عمل ہے جس کی ہر مذہب، ہر ذات اور طبقہ کی جانب سے مذمت کی جاتی ہے۔ ہماری مشرقی تہذیب اور اخلاقی اقدار ہمیں ہمیشہ خواتین کا احترام، ماؤں، بیٹیوں کی عزت اور کمسن بچیوں کے تحفظ کا درس دیتے ہیں، لیکن انتہائی افسوس اور تشویش کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے آس پاس کا سماج اس درس اخلاق سے کوسوں دور ہوچکا ہے۔ دن بہ دن خواتین سے بدتمیزی، لڑکیوں سے چھیڑچھاڑ اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کے دل دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آرہے ہیں جو پورے معاشرے کو شرمسار کررہے ہیں، لیکن اس ڈراؤنی تصویر کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جو حالیہ دنوں میں ایک منظم رجحان کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یعنی جرم اور جرم کے شکار (Victim) کو مذہب اور سیاست کی عینک سے دیکھا جارہا ہے۔ ایک سچے اور انصاف پسند معاشرے کا اصول یہ ہونا چاہئے کہ مظلوم چاہے کسی بھی مذہب کا ہو، وہ صرف مظلوم ہے اور ظالم چاہے کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، وہ صرف اور صرف ایک مجرم ہے۔ جب کسی لڑکی یا خاتون کی عصمت تار تار ہوتی ہے تو زخم کسی مذہب کو نہیں بلکہ ایک انسان کی روح کو لگتا ہے لیکن بدقسمتی سے دور حاضر میں سیاست دانوں اور چند انتہا پسند عناصر نے اس درد کو بھی فرقہ واریت کا لباس پہنا دیا ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی مسلم شخص یا نوجوان لڑکا کسی جرم یا عصمت ریزی میں ملوث پایا جاتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے پورا نظام، میڈیا کے چند حلقے اور ہندوتوا تنظیمیں سڑکوں پر اُتر آتی ہیں۔ احتجاج کے نام پر پورے طبقے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مجرم کو پھانسی دینے اور اس کے گھر پر بلڈوزرس چلانے کے مطالبات زور پکڑتے ہیں۔ یقیناً مجرم کو سخت ترین سزا ملنی چاہئے لیکن اس غصہ کے پیچھے مجرم سے زیادہ اس کے مذہب کو نشانہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ جب ملزم کا تعلق اکثریت (ہندو سماج) اور ہندو طبقے کی لڑکی سے اسی طرح کا کوئی شخص یا نوجوان لڑکا گھناؤنی حرکت کرتا ہے تو اکثر معاملات میں ایک عجیب سے خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ وہ غصہ سڑکوں پر نظر آتا ہے، نہ میڈیا پر وہ چنگاریاں دہکتی ہیں اور نہ ہی ہندوتوا تنظیمیں اس جرم کے خلاف اس شدت سے آواز اُٹھاتی ہیں۔ کئی بار تو مجرموں کو بچانے یا معاملے کو دبانے کی سیاسی کوشش بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سماج کو مظلوم کے درد سے یا عورت کی عزت سے کوئی سروکار نہیں رہا بلکہ سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہوتی ہیں کہ ملزم کا نام کیا ہے اور مظلوم کا تعلق کس ووٹ بینک سے ہے۔ عصمت ریزی جیسے بھیانک جرم کو مذہب اور سیاست کا لبادہ اڑھانا ایک انتہائی خطرناک اور زہریلا رجحان ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عصمت ریزی صرف عصمت ریزی ہوتی ہے۔ درد صرف درد ہوتا ہے۔ ایک ہندو بیٹی کے آنسووؤں کی قیمت اور ایک مسلم بیٹی کے آنسوؤں کی قیمت برابر ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک بیٹی کے انصاف کیلئے تو آسمان سر پر اُٹھالیں اور دوسری بیٹی کی مظلومیت پر مصلحت کی چادر اُوڑھ کر سوجائیں تو ہم ایک بیمار اور منافق معاشرے کی تعمیر کررہے ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ ایک ایسے نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں انسانیت، اخلاقیات اور انصاف کے بنیادی اصول دم توڑ رہے ہیں، عصمت ریزی اور خواتین پر مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، لیکن حالیہ دنوں پیش آنے والے دو واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ اب درد اور درندگی کو بھی سیاسی اور مذہبی عینک سے تولا جارہا ہے۔ یہ تفریق اور دوہرا معیار ہمارے سماجی تانے بانے کیلئے ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو نہ صرف ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے رہا ہے بلکہ اصل مجرموں کو بچانے کا راستہ بھی فراہم کررہا ہے۔ حالیہ دنووں میں ہمارے سامنے دو ایسے واقعات آئے جن کی نوعیت ایک جیسی تھی۔ دونوں ہی لڑکیوں کے ساتھ ظلم ہوا، دونوں معاملات میں پوکسو کیسیس درج ہوئے لیکن ان پر سیاسی قائدین، تنظیموں اور میڈیا کا ردعمل بالکل متضاد اور شرمناک رہا ہے۔ ایک حالیہ واقعہ میں ایک مرکزی مملکتی وزیر کے فرزند نے ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کی جس کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا اور گرفتاری بھی عمل میں آئی چونکہ ملزم کا تعلق اکثریتی (ہندو) طبقے سے ہے اور وہ طاقتور سیاست دان کا بیٹا ہے، اس لئے اس پورے کیس کو دبانے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی۔ کسی ریاستی وزیر یا حکمران جماعت کے قائد نے اس کے خلاف کھل کر آواز نہیں اٹھائی، نہ ہی کوئی متاثرہ کے گھر پہونچا اور نہ ہی ان کے والدین کو دلاستہ دینے کی زحمت گوارا کی۔ یہاں قانون کی کارروائی پر خاموشی کی چادر اُڑھا دی گئی۔ اس کے برعکس کھمم میں پیش آنے والے واقعہ میں جب متاثرہ غیرمسلم تھی اور ملزم کا تعلق مسلم سماج سے تھا تو پورا سسٹم حرکت میں آگیا۔ سیاسی قائدین، وزراء اور مختلف تنظیموں کے قائدین کی قطاریں لگ گئی۔ نمس ہاسپٹل پہنچ کر متاثرہ کے خاندان سے ملاقاتیں کی گئی۔ میڈیا پر دن رات واویلا مچایا گیا۔ سڑکوں پر دھرنے دیئے گئے اور ملزم کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اسی دوران نمس ہاسپٹل کے احاطے میں ایک کمسن لڑکی کے ساتھ زبردستی کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا مگر اس معاملے پر بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی۔ کھمم کی بیٹی کیلئے جو تڑپ، غصہ اور ہمدردی دکھائی گئی، وہ مرکزی وزیر کے بیٹے کا شکار بننے والی بیٹی اور ساتھ ہی نمس ہاسپٹل کے احاطے میں مزدور کی بیٹی کیلئے کیوں نہیں دکھائی گئی۔ کیا دونوں بیٹیوں کا درد الگ تھا، یا انصاف کا معیار صرف اس بات پر منحصر ہے کہ ملزم کا تعلق کسی سیاسی جماعت یا مذہب سے ہے۔ جرم کو کسی طبقے یا مذہب سے جوڑنے کا ررجحان سماج میں کئی گہرے نقصانات اور برائیاں پیدا کررہا ہے۔ جب کسی مسلم فرد سے کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو اسے انفرادی جرم کے طور پر دیکھنے کے بجائے پورے مسلم معاشرے کو کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔ اس سے عام لوگوں کے ذہنوں میں ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت اور خوف پیدا ہوتا ہے جو ملک کے امن و امان اور بھائی چارے کیلئے انتہائی تباہ کن ہے۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر مظلوم کے آنسو کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے اور مجرم کو ایک ہی سزا دی جائے جب تک ہم ذات پات اور مذہب کی عینک اُتار کر صرف انسانیت اور انصاف کے اصول پر قائم نہیں ہوں گے تب تک ہم اپنی نسلوں کو ایک محفوظ اور پاکیزہ معاشرہ نہیں دے سکیں گے۔