جسٹس مارکنڈے کاٹجو
راقم الحروف کے ایک اچھے دوست ہیں، دنیا انہیں سعید نقوی کے نام سے جانتی ہے ۔ وہ ایک مشہور و معروف صحافی ہیں اور ہندوستانی صحافتی شعبہ میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ میں انہیں سعید بھائی کہتا ہوں ۔ اکثر ان کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ ان کی عمر 86 برس ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعید نقوی مجھ سے 6 سال بڑے ہیں ۔ میری عمر 80 سال ہے۔ سعید نقوی کے بارے میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں، ان کا ا کثر یہی کہنا ہوتا ہے ہندوستانی مسلمانوں کا کبھی صرف ایک لیڈر یارہنما ہوا کرتا تھا جواہر لال نہرو جو 1964 میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور اب مسلمانوں کے صرف ایک لیڈر ہیں ، مارکنڈے کاٹجو۔ ان کے اس خیال کے بارے میں میرا یہ سوال ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی مسلمان لیڈر کیوں نہیں ہوسکتا ۔ مسلمانوں کی قیادت کی ذمہ داری مجھ پر کیوں ڈال دی گئی ہے جبکہ مجھے اس کی کوئی خواہش اور تمنا نہیں۔ اس کی وجہ ابن خلدون بھاتی نے پو رٹل دی پرنٹ میں شائع اپنے ایک مضمون میں بیان کی ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں میں ایک دانشور و مفکر طبقہ کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ زیادہ تر ہندوستانی مسلمان پسماندگی کا تمغہ سجانا پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی بیانیہ ہے جس کا مقصد ہندوستان کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ انہیں پیچھے ڈھکیل رہا ہے ، وہ اپنے الزامات کی تائید میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی طور پر ہندوستان میں سب سے زیادہ پسماندہ قرار دے کر ان کی ترقی کیلئے کئی سفارشات پیش کئے تھے ۔ اس بحث میں گئے بغیر کہ یہ پسماندگی حقیقی ہے یا فرضی ؟ اور آیا مسلمانوں کا ہر طبقہ ہندو برادری کے کسی طبقہ کے مقابلہ میں پیچھے ہے یا نہیں ایک خاص شعبہ ایسا ہے جہاں مسلمانوں کی پسماندگی سب سے نمایاں لیکن سب سے کم تسلیم کی جاتی ہے اور وہ ہے فکری پسماندگی ۔ واضح رہے کہ مسلم برادری کے پاس باقاعدہ مفکرین و دانشوروں کا کوئی طبقہ موجود نہیں ہے ۔ تقریباً 20 کروڑ تا 25 کروڑ افراد پر مشتمل ایک ایسی برادری جس کی شرح خواندگی 79.5 فیصد ہے ، اگر کوئی قابل ذ کر دانشور طبقہ نہ رکھتی ہو اور چند ایسے مفکرین و دانشور ہوں جو واقعی نمایاں مقام رکھتے ہوں تو یہ کم از کم حیران کن بات ہے ۔ مسلمانوں میں مفکرین و دانشور طبقہ کی عدم موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عوامی مباحث میں بائیں بازو کے آزاد خیال اور فراخدل ہندو ان کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اگر مسلمان خود اپنی بات کہہ سکتے ہیں تو انہیں ایسے وکیلوں کی ضرورت کیوں پڑے گی جو اس عمل میں ان کی نشست خود نے لیتے ہیں اور انہیں ہمیشہ کیلئے بات چیت سے باہر رکھتے ہیں ۔ بائیں بازو کے فراخدلی اور آزاد خیال لوگوں کے نزدیک مسلمان وہ خاموش کروڑوں لوگوں میں ہیں جوا پنی بات خود کہنے کی صلاحیت نہ رکھنے کی وجہ سے ان کے ذریعہ نمائندگی کے محتاج ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار کی وضاحت راقم الحروف ذیل کی سطور میں کی ہے۔ ان مسلمانوں میں وہ مصطفیٰ کمال اتاترک کہاں ہیں جنہوں نے پر زور انداز میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو خود کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرلینا چاہئے اور جاگیردارانہ رسوم و رواج اور روایات سے چھٹکارا پالینا چاہئے جو انہیں جکڑ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے روکتی ہیں۔ اس نے حجاب (برقعہ) ، شریعت ، مدارس اور علماء کی شدت سے مخالفت کی تھی(یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مصطفیٰ کمال اتاترک حقیقت میں شریعت اور علماء کی عظمت و اہمیت کو سمجھ ہی نہیں پایا تھا) بہرحال ایسا نہیں ہے کہ تمام کے تمام مسلمان غیر تعلیم یافتہ ہیں، ایسے بہت سارے مسلمان ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن یونیورسٹی کی ڈگری رکھنے اور حقیقی معنوں میں ایک مفکر و دانشور ہونے میں کافی فرق پایا جاتا ہے ۔ آپ کو بتادوں کہ ہمارے ملک کے سابق نائب صدر جمہوریہ اور انڈین فارن سرویس عہدیدار جناب حامد انصاری ، ملک کے ممتاز مورخ عرفان حبیب دہلی کے سابق لیفٹننٹ گورنر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ ، مشہور و معروف سیاسی شخصیت سلمان خورشید ،اسد اویسی مشہور و معروف ماہر تعلیم مصنف و سماجی جہدکار سید حامد ، صحافی سعید نقوی ، سیما مصطفیٰ ، صبا تقوی، عارفہ خانم شیروانی ، ممتاز شاعر وسیم بریلوی اور قانون داں محمود پراچہ وغیرہ بلا شبہ یونیورسٹی کی ڈگریاں رکھتے ہیں لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیا ان میں سے کسی نے کبھی برقعہ ، شریعت، مدارس اور ملاؤں کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا ہے، ان کی مذمت کی ہے (یہ کیونکر شریعت کی مذمت کریں گے جبکہ شریعت تو مسلمانوں کو زندگی کے آداب سکھاتی ہے ۔ آدمی کو حقیقت میں انسان بناتی ہے) ان میں سے کتنے لوگوں نے شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے اس ترقی پسند اور انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ کی کھل کر تائید و حمایت کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک مسلمان شوہر کو اپنی مطلقہ بیوی کو نان و نفقہ دینا چاہئے ؟ کیا نام نہاد مسلم دانشوروں نے کبھی ڈاکٹر ذاکر نائک پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر نائک نے کہا تھا کہ افغانستان کے بامیان میں گوتم بدھ کے مجسموں کو تباہ کرنا لوگوں کو تعلیم دینے کیلئے تھا۔ ذاکر نائک نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسامہ بن لادن کی تعریف و ستائش کرتے ہوئے اسے شہید قرار دیا۔ آپ کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ہندوستانی مسلمانوں کا ہمدرد اور ان کا حقیقی بہی خواہ ہوں اور میری خواہش ہے کہ وہ خوشحال زندگی گزاریں۔ میں مذہبی آزادی کا کٹر حامی ہوں لیکن کچھ چیزوں کو اسلامی رسومات کا حصہ نہیں مانتا ۔ ہاں اسلام میں نمازوں کی ادائیگی ، ماہ رمضان میں روزوں کا اہتمام کرنا ، حج کرنا فرض ہے۔ میں ہندوستان میں مذہب مخالف قوانین کو ختم کئے جانے کی بھی پورے زور کے ساتھ وکالت کرتا ہوں۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ ملک ترقی کرے اور سب یہی چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے۔ آگے بڑھنے کیلئے ہمیں سماجی لعنتوں کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ جاگیردارانہ اور پسماندہ روایات کو زبردستی ختم کیا جائے ۔ میں وہی بات کہوں گا جو قومی مفاد میں بہتر سمجھتا ہوں اور جسے میں ہندوستانی مسلمانوں کے مفاد میں بھی بہتر سمجھتا ہوں ۔ چاہے اس سے کسی کو خوشی ہو یا ناراضگی۔ (ادارہ کا مضمون نگار کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں)۔