ممبئی حملہ کیس: تہور رانا کو بڑا جھٹکا

,

   

امریکی عدالت نے ہندوستان کو حوالگی کی درخواست مسترد کر دی

واشنگٹن: سال 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملے کے ملزم تہوّر رانا کو امریکی سپریم کورٹ سے زبردست جھٹکا لگا ہے۔ امریکی جج ایلینا کیگن نے بھارت حوالگی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے تمام قانونی حربے ناکام بنا دیئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب تہور رانا کی ہندوستان حوالگی تقریباً طے سمجھی جا رہی ہے، جہاں وہ دہشت گردی کے سنگین الزامات کا سامنا کرے گا۔تہور رانا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ وہ پاکستانی نژاد مسلمان ہے اور اگر اسے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تو اسے نسلی، مذہبی اور سیاسی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔ رانا نے ہیومن رائٹس واچ کی 2023 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویہ رکھتی ہے، لہٰذا اسے بھارت نہ بھیجا جائے۔ تاہم، امریکی عدالت نے رانا کے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے بھارت حوالگی کی راہ ہموار کر دی۔تہوّر رانا نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ وہ پارکنسنز سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا ہے اور بھارت میں اس کا مناسب علاج ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم، امریکی عدالت نے راناکے اس دعوے کو بھی قابل قبول نہیں سمجھا ۔تہور رانا کا تعلق پاکستان سے ہے، جہاں انہوں نے آرمی میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی اور 10 سال تک فوج میں ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد میں انہوں نے فوج چھوڑ دی اور کینیڈا کی شہریت حاصل کر لی۔ حالیہ برسوں میں وہ امریکہ کے شہر شکاگو میں رہائش پذیر تھے اور وہاں کاروبار کر رہے تھے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق تہور رانا نے پاکستان، کینیڈا، جرمنی اور انگلینڈ کا سفر کیا اور دہشت گرد نٹ ورکس کے ساتھ رابطے قائم کیے۔عدالتی تحقیقات کے مطابق، تہوّر رانا نے 2006 سے 2008 کے درمیان لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد اسلامی جیسے دہشت گرد گروپوں کی مدد کی اور ممبئی حملے کی سازش میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی ڈیوڈ ہیڈلی کے ساتھ مل کر حملے کی منصوبہ بندی کی۔ 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں دہشت گردوں نے خونریز حملہ کیا، جس میں 166 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کئی پولیس افسران اور کمانڈوز بھی شامل تھے۔