امپھال : نمائندہ وفد نے گورنر انوسوئیا اوئیکے کو ایک عرضداشت پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت، خصوصاً پی ایم مودی کی مداخلت کے بغیر ریاست میں امن کی بحالی ممکن نہیں۔منی پور میں جاری تشدد نے سبھی ریاستی عوام کو خوف میں ڈال رکھا ہے۔ کبھی بھی تصادم اور تشدد کے واقعات شروع ہو جاتے ہیں اور لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا تک محال ہو جاتا ہے۔ حکومت سے لے کر عام شہری تک ریاست میں امن کی بحالی چاہتے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکل پایا ہے۔ اس درمیان راج بھون کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ 10 سیاسی پارٹیوں کے ایک نمائندہ وفد نے منی پور کی گورنر انوسوئیا اوئیکے سے ریاست میں امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری اقدام کی گزارش کی ہے۔ نمائندہ وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں مخالف طبقات (کوکی۔میتئی) کے درمیان امن مذاکرہ شروع کیا جائے تاکہ نسلی تشدد کا کوئی حل نکل سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ایبوبی سنگھ کی قیادت والے نمائندہ وفد نے جمعہ کی شام گورنر کو ایک عرضداشت پیش کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت، خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی کی مخالفت کے بغیر ریاست میں امن کی بحالی نہیں ہو سکتی۔ جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نمائندہ وفد نے دونوں طبقات کے ساتھ امن مذاکرہ فوراً شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جاری تشدد کا مستقل حل نکالا جا سکے۔