مہاراشٹرا کے 14 دیہاتوں کے عوام تلنگانہ میں انضمام کے خواہاں

   

فلاحی اسکیمات سے استفادہ کے لیے مساعی
حیدرآباد ۔14 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات سے متاثر ہوکر مہاراشٹرا کے 14 دیہاتوں کے عوام نے انہیں تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تلنگانہ کے سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مہاراشٹرا کے 14 دیہات ترقیاتی سرگرمیوں سے محروم ہیں ، لہذا انہوں نے ان مواضعات کو مہاراشٹرا سے نکال کر تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مہاراج گوڑہ ، ناکہ واڑہ اور دیگر مواضعات سے تعلق رکھنے والے عوام کا کہنا ہے کہ ملک کی نئی ریاست تلنگانہ میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا۔ پنشن ، راشن اور دیگر فلاحی اسکیمات ملک کے لئے مثالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ اسکیمات سے استفادہ کیلئے وہ تلنگانہ میں ضم ہونے کے کیلئے تیار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی پنچایتوں میں اس سلسلہ میں قرارداد منظور کی گئی ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ مہاراشٹرا میں فلاحی اسکیمات سے محروم ہیں، تلنگانہ حکومت ضعیف العمر افراد کیلئے پنشن اور غریب گھرانوں کو 10 کیلو چاول فراہم کر رہی ہے۔ ناکہ واڑہ علاقہ کے ڈپٹی سرپنچ سدھاکر جادھو کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں عوام کو فلاحی اسکیمات کے فوائد مہاراشٹرا سے زیادہ ہیں۔ ہم مہاراشٹرا حکومت سے تلنگانہ کی طرز پر فلاحی اسکیمات کے آغاز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مہاراشٹرا کے سرحدی اضلاع سے تعلق رکھنے والے جملہ 46 دیہاتوں میں تلنگانہ میں انضمام کی مہم شروع کی ہے۔ ر