نوجوانوں کے گرد گھومتی سیاست

   

رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پراونہ آتا ہے
ہندوستان کی روایت رہی ہے کہ ملک کی سیاست کسی نہ کسی پہلو کے گرد گھومتی رہتی ہے ۔ زیادہ تر مندر ۔ مسجد ‘ ہند و ۔ مسلم کی سیاست ہوتی رہی ہے اور اسی کا عوام کے دہنوں پر غلبہ بھی دیکھا گیا ہے ۔ ملک میں ایک دور تھا جب مسائل کی بنیاد پر سیاست ہوا کرتی تھی اور سیاست مسائل کے گرد ہی گھومتی تھی ۔ کبھی کسی احتجاج کا وقتی طور پر غلبہ ہوا کرتا تھا تو کبھی کسی اسکام پر ساری توجہ مرکوز ہوا کرتی تھی ۔ 1990 کی دہائی سے مندر مسجد کی سیاست نے فروغ پانا شروع کیا تھا ۔ ہندو ۔ مسلم کے درمیان خلیج بڑھنے لگی تھی ۔ ان کے درمیان نفرتوں کو ہوا دی گئی ۔ انہیں ایک دوسرے کے تعلق سے بدظن کیا گیا اور سیاسی جماعتوں نے اپنی دوکانیں چمکائیں۔ یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ ملک میں مسائل کہیں پس منظر میں چلے گئے تھے ۔ وقتی طور پر کسی گوشہ سے کوئی مسئلہ اٹھایا بھی جاتا تو کہیں نہ کہیں سے کوئی ایسا مذہبی اور اشتعال انگیز نعرہ دیدیا جاتا کہ ساری سیاست کا رخ ہی بدل کر رہ جاتا ۔ جس وقت سے مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی حکومت 12 سال قبل قائم ہوئی تھی اس وقت سے تو شائد ہی کوئی مسئلہ سیاست میں مرکز توجہ رہا ہو ۔ کبھی مندر ۔ مسجد کا مسئلہ اٹھایا گیا تو کبھی انتخابات کی ہوا بدلنے کیلئے شمشان ۔ قبرستان کی بات کہی گئی ۔ کبھی عید ۔دیوالی کا مسئلہ اٹھایا گیا تو کبھی بیف کے مسئلے کو ہوا دی گئی ۔ کبھی تین طلاق کی سیاست شروع ہوئی تو کبھی یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ غرض یہ کہ جتنے بھی مسائل حالیہ عرصہ میں ہندوستانی سیاست پر غالب رہے ہیں وہ سب کے سب متنازعہ ہی رہے ہیں اور انہیں منفی سوچ کے ساتھ ہی آگے بڑھایا گیا تھا ۔ ملک کے مستقبل ‘ طلباء اور نوجوانوں کے مسائل ہندوستان میں شائد ہی کبھی مرکز توجہ رہے ہوں۔ ایک طرح سے نوجوانوں کو بھی کئی مواقع پر اکسایا گیا اور ان کا استحصال کرتے ہوئے ان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا اور انہیں ترقی کے مواقع سے عملا محروم ہی رکھا گیا ہے ۔ ساری صورتحال میں ملک کا نوجوان صحیح اور مثبت سمت سے بھٹکا ہوا ہی رہا اور اسے کوئی سمت نہیں ملی ۔
ملک میں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جس نے کئی گوشوں کو مایوسی کا شکار کردیا تھا اور صورتحال کسی کے بھی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ صرف ایک پہل کی ضرورت تھی تاکہ جو ہوا کھڑا کیا گیا ہے اسے ختم کیا جاسکے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے راجستھان کے شہر کوٹا سے طلباء کی گونج پروگرام شروع کیا گیا ۔ طلباء و نوجوانوں نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ۔ پھر سی جے پی نے دارالحکومت دہلی میں مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبہ پر احتجاج کا آغاز کیا ۔ دونوں ہی جگہ ہوئی پہل نے سارے ملک کو ایک رائے کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ آج سارے ملک میں نوجوانوں کی اور ان کے مسائل کی اور ان کے مستقبل کی بات ہو رہی ہے ۔ تعلیم کی بات ہو رہی ہے اور روزگار کے مسائل اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ابھی محض ایک شروعات ہی ہے تاہم اسے ایک اچھی شروعات کہا جاسکتا ہے کیونکہ سیاست کا محور اب نوجوانوں کے اطراف دکھائی دے رہا ہے ۔ دہلی میں ہوئے احتجاج کی کامیابی کے بعد جھارکھنڈ میں طلباء نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ آندھرا پردیش میں بھی طلباء کے مسائل کی بات ہو رہی ہے ۔ راہول گاندھی کا چھاتروں کی گونج پروگرام بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔ حکومت کو بھی اب نوجوانوں پر توجہ دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور وزیر اعظم خود رات دیر گئے انسٹاگرام ریل بنارہے ہیں۔
ہندوستان جیسے ملک میںجہاں نوجوانوں کی کثیر آبادی ہے سیاست کا رخ درست نہیں رہ گیا تھا ۔ اسے سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کے راستے پر ڈال دیا تھا تاہم اب خود نوجوانوں نے پہل کرتے ہوئے سیاست کا رخ درست کرنے کی مہم شروع کی ہے اور اس کی کامیابی کے آثار واضح ہونے لگے ہیں۔ یہ خوش آئندہ ہے کہ سیاست کو اب نوجوانوں کے گرد گھومنا پڑ رہا ہے ۔ یہی ملک کا مستقبل ہونا چاہئے اور ہر سیاسی جماعت کو اور ہر حکومت کو نوجوانوں کے مسائل پر ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔