نیشنل گرین ٹریبونل کے جرمانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری

   


اسپیشل چیف سکریٹری رجت کمار کی عہدیداروں سے مشاورت

حیدرآباد۔/25 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے نیشنل گرین ٹریبونل کی جانب سے 920 کروڑ کے جرمانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیشنل گرین ٹریبونل نے پالمور رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم اور ڈنڈی آبپاشی پراجکٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں پر تلنگانہ حکومت پر جرمانہ عائد کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خطیر رقم کے جرمانے کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔ اسپیشل چیف سکریٹری آبپاشی رجت کمار نے گرین ٹریبونل کے احکامات پر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کی۔ انہوں نے جرمانے سے بچنے کیلئے حکمت عملی طئے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رجت کمار نے بتایا کہ حکومت کو نیشنل گرین ٹریبونل کے احکامات موصول ہوچکے ہیں اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے قانونی رائے حاصل کی جائے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے منظوری کے بعد اس معاملہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت ٹریبونل نے ایک آبپاشی پراجکٹ کے بارے میں جب آندھرا پردیش حکومت پر جرمانہ عائد کیا تھا تو سپریم کورٹ نے حکم التواء جاری کیا تھا۔ آندھرا پردیش کی طرز پر تلنگانہ حکومت بھی سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کیلئے منظوری حاصل کرلی ہے اور دوسرے مرحلہ کے کاموں کے سلسلہ میں رپورٹ کا انتظار ہے۔ حکومت سنٹرل واٹر کمیشن کو پراجکٹ رپورٹ پیش کرنے پر غور کررہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل نے دونوں پراجکٹس کے بارے میں تلنگانہ کے موقف کی سماعت کے بغیر ہی جرمانہ عائد کردیا۔ر