نیویارک: حکام نے بتایا کہ پولیس نے پیر کو 200 سے زائد فلسطینی حامی مظاہرین کو گرفتار کر لیا جنہوں نے نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے باہر غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے لیے امریکی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کی غرض سے دھرنا دیا ہوا تھا۔مظاہرین نے زیریں مین ہٹن میں وال سٹریٹ کے قریب ایکسچینج کی مشہور عمارت کے سامنے “غزہ کو زندہ رہنے دو” اور “نسل کشی کی اعانت بند کرو” کے نعرے لگائے۔ ان میں سے کئی کارکنان جیوش وائس فار پیس جیسے گروپس سے تعلق رکھتے تھے۔مظاہرین میں سے کوئی بھی اسٹاک ایکسچینج میں داخل نہیں ہوا لیکن درجنوں نے براڈ اسٹریٹ پر اس کی مرکزی عمارت کے باہر پولیس کی حفاظتی حد عبور کر لی۔پولیس کے ترجمان نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ 206 گرفتاریاں کی گئیں۔ مظاہروں میں شامل یہودی گروپس نے کہا کہ تقریباً 500 مظاہرین نے شرکت کی۔ اسٹاک ایکسچینج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔مظاہرین نے امریکی دفاعی امور کے ٹھیکیداروں اور ہتھیار سازوں پر غصے کا اظہار کیا۔ دیگر نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خلاف نعرے لگائے۔جیوش وائس فار پیس نے ایکس پر پوسٹ کیا، (سینکڑوں) یہودی اور دوست امریکہ سے یہ مطالبہ کرنے کے لیے نیویارک اسٹاک ایکسچینج بند کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو مسلح کرنا اور نسل کشی سے فائدہ اٹھانا بند کرے۔” اسرائیل نے عالمی عدالت میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیوں میں حماس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس جگہ پر اسرائیل کے حامی جوابی مظاہرین کی بھی بہت مختصر تعداد موجود تھی جنہوں نے اسرائیلی پرچم اٹھا رکھے تھے۔یہ مظاہرہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے لیے امریکی حمایت کے خلاف غصے کا تازہ ترین اظہار تھا۔