حیدرآباد ۔ انقلابی ادیب ورا ورا راؤ کو بالآخر ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ ملک سے غداری اور وزیراعظم کی ہلاکت کا منصوبہ تیار کرنے کی سازش کے سنگین الزامات کا سامنا کررہے 81 سالہ ورا ورا راؤ تقریباً 18 ماہ سے مہاراشٹرا کی جیلوں میں قید ہیں اور ان کی بگڑتی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کئی مرتبہ ان کی اہلیہ اور دختران کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں، جہدکاروں اور بائیں بازو نے ان کی رہائی و بہتر علاج کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کل رات دیر گئے ورا ورا راؤ کو ممبئی کی تلوجا جیل سے جے جے ہاسپٹل منتقل کیا گیا اور وہ ہاسپٹل کے نیرولوجی وارڈ میں شریک کردیئے گئے۔ ان کی حالت پر تلنگانہ میں تشویش پائی جاتی ہے اور ان کی سلامتی کے تعلق سے بھی کئی مرتبہ سوالات اٹھائے گئے۔ حکومت تلنگانہ سے ان کی بہتر طبی نگہداشت کیلئے مہاراشٹرا حکومت کے علاوہ مرکزی حکومت سے نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا گیا تھا۔ انقلابی ادیب ورا ورا راؤ کی دواخانہ منتقلی کی تصدیق اے ڈی جی پرینرس سنیل رمانند نے کی۔ تاہم اس بات پر ورا ورا راؤ کی دختر یوانا نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی جیلر سے بات ہوئی تھی اور اس نے صحت سے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا اور والد کو دواخانہ منتقل کرنے کی کوئی اطلاع نہیں دی۔ ورا ورا راؤ خود سے چل پھرنے کی حالت میں نہیں رہے ان کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔ یہ اطلاع ورا ورا راؤ کے ہمراہ جیل کی سزاء کاٹ رہے ایک شخص نے انہیں فراہم کی۔ افراد خاندان نے بہتر طبی سہولیات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔