یہ کب سے تم معلمِ اخلاق بن گئے
ہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُرا
کسی بھی ملک کیلئے اس کے نوجوان انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نوجوانوںکے ہاتھوں ہی میں ملک کا مستقبل ہوتا ہے اور حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی انہیں کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ ان کیلئے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور انہیںمستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جس وقت سے جنتر منتر پر طلباء اور نوجوانوں نے احتجاج شروع کیا تھا اس وقت سے ہی نوجوانوں کی طاقت کا اندازہ ہونے لگا تھا ۔ نوجوانوں کے خلاف حالانکہ کئی اقدامات کئے گئے لیکن انہوں نے اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اپنے مطالبہ پر ڈٹے رہے اور بالآخر حکومت کو اپنے موقف میںنرمی پیدا کرتے ہوئے وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان سے استعفی لینا پڑا ۔ جس وقت سے استعفی ہوگیا اور جنتر منتر کا احتجاج ختم ہوگیا اس کے بعد سے تاہم حالات کا رخ پیچیدہ ہونے لگا ہے ۔ حکومت نے سی جے پی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ احتجاج میں شامل افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ تاہم ملک کی مختلف ریاستوں میںنوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اور کچھ کو جیلوں میں بھی بھیجا گیا تھا ۔ یہ کارروائیاں ان ریاستوںمیںہوئی جہاںمرکز کی طرح بی جے پی کی ہی حکومت ہے ۔ اس کے علاوہ دہلی میں بھی ایسی کارروائیاں ہوئی ہیں جہاں کی پولیس مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے کنٹرول میں ہے ۔ اس پر جب دوبارہ ناراضگی اور برہمی کی فضاء پیدا ہونے لگی تو حکومت کے رویہ میں ایک بار پھر نرمی آئی اور ان مقدمات سے دستبرداری اور محروسین کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس سارے معاملے میں ایک بات خاص طور پر نوٹ کرنے کی ہے کہ وزیر اعظم نے راست ملک کے نوجوانوں سے ان کی سطح پر آکر رابطہ کرنے کا آغاز کیا ہے ۔ وہ اب طلباء اور نوجوانوں کو فرینڈز کہہ کر مخاطب کرنے لگے ہیں اور ان کیلئے انسٹاگرام پر ویڈیو جاری کئے جا رہے ہیں۔ اس سے نوجوانوں کی طاقت اور ان کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔
یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم ملک بھر میں جب کبھی عام انتخابات ہوتے ہیں تو نوجوانوںکو زیادہ ٹارگٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ پہلی بار ووٹ ڈالنے والوںکو راغب کرنے پر توجہ دی جاتی ہے اور اب شائد حکومت کو اور وزیر اعظم کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ ملک کے نوجوان ان سے دوری اختیار کرنے لگے ہیں اور حکومت کے تعلق سے نوجوانوں میںناراضگی پیدا ہوگئی ہے اور یہ شدت بھی اختیار کر رہی ہے ۔ شائد اسی وجہ سے وزیر اعظم نے طلباء اور نوجوانوں کو فرینڈز کہہ کر مخاطب کرنا شروع کیا ہے حالانکہ وہ اپنی تقاریر اور خطاب میں مترو کہہ کر مخاطب کرنے کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ 75 سال کی عمر پوری کرنے والے وزیر اعظم 20 تا 25 سال کی عمر والے طلباء کو فرینڈز کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں جبکہ چند دن قبل ہی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ اجلاس کے آغاز کے دن ہی قائد اپوزیشن راہول گاندھی پر 56 سال کا نوجوان کہتے ہوئے بالواسطہ طنز کیا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ 56 سالہ لیڈر نوجوان نہیں ہے لیکن 75 سال پورے کرنے والے وزیر اعظم نوجوانوں کے دوست ہیں۔ اس سے رویہ اور لہجے کے دوہرے معیارات کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت کو نوجوانوں کی اہمیت کا اندازہ ہونے لگا ہے اور وہ انہیں ایک بار پھر جھانسہ میں رکھنا چاہتی ہے اور انہیںکھونا نہیںچاہتی ۔ اسی لئے وزیر اعظم اب نوجوانوں کو راغب کرنے کی کوشش زیادہ کر رہے ہیں۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں وزیر اعظم تو نوجوانوں کو فرینڈز کہہ رہے ہیں اور ان کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرنے والوں کو معاف کردینے کا دعوی بھی کر رہے ہیں لیکن نوجوانوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ان کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کیا جا رہا ہے ۔ ان کو آن لائین ہراسانی بھی کی جا رہی ہے ۔ عصمت ریزی کرنے اور نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ سلسلہ بھی روکا جانا چاہئے ۔ نوجوانوں کو صرف دکھاوے کے ذریعہ گمراہ کرنے کی کوششیں اب شائد کامیاب نہیں ہونگی کیونکہ نوجوان تیقن نہیں عمل کو دیکھ رہے ہیں۔
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ‘ اہمیت کا حامل
حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے عوام کی سہولت کیلئے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی اجرائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یہ سرٹیفکیٹ کئی اہم سرکاری اور غیرسرکاری کاموں کیلئے کارآمد اور مفید ثابت ہوسکتا ہے ۔ می سیوا مراکز اور تحصیلدار دفاتر سے رجوع کرتے ہوئے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جن افراد کو ایس آئی آر میںمشکلات کا اندیشہ ہو اور جنہیںنوٹس ملنے کے امکانات ہوں ان کیلئے تو یہ اور بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے ۔ تلنگانہ عوام کوا ور خاص طور پر اقلیتوں کو اس سرٹیفکیٹ کے حصول میں کسی طرح کی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس سرٹیفکیٹ کو جلد حاصل کرنے پر توجہ کرنی چاہئے ۔ اس کیلئے حکومت کی جانب سے فیس بھی انتہائی معمولی رکھی گئی ہے اور می سیوا کے ذریعہ اس کا حصول ممکن ہے ۔ سرکاری دستاویزات کے معاملہ میں غفلت کسی کیلئے بھی اچھی نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے اس کے حصول میں بھی غفلت نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ یہ ایک سرٹیفکیٹ کئی دوسرے سرکاری دستاویزات کو تقویت دینے کیلئے بھی بہت اہم ثابت ہوگا ۔