مدھیہ پردیش ، راجستھان ، تلنگانہ اور میزورم میں ایک مرحلہ اور چھتیس گڑھ میں دو مرحلے
نئی دہلی : مدھیہ پردیش میں اسمبلی الیکشن 2023ء ایک مرحلے میں 17 نومبر کو منعقد کیا جائے گا جس کے بعد راجستھان میں 23 نومبر کو اور تلنگانہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ ہوگی ۔ اس سال چناؤ کا پہلا راؤنڈ میزورم سے 7 نومبر کو شروع ہوگا ۔ چھتیس گڑھ واحد ریاست ہے جہاں دو مرحلوں میں انتخابات منعقد کئے جائیں گے ۔ پہلا مرحلہ میزورم کے ساتھ 7 نومبر کو رہے گا اور دوسرے مرحلے کے چناؤ مدھیہ پردیش کے ساتھ 17 نومبر کو ہوں گے ۔ تمام نتائج کا 3 ڈسمبر کو اعلان کیا جائے گا ۔ لگ بھگ 16.1 کروڑ رائے دہندے ان اسمبلی انتخابات میں اپنے ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ چناؤ کو سیاسی مبصرین 2024 کے لوک سبھا الیکشن کے لئے سیمی فائنل قرار دے رہے ہیں۔ کانگریس نے 2018 ء میں چھتیس گڑھ ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کامیابی کی ہیٹ ٹرک درج کرائی تھی لیکن بعد میں وہ اقتدار برقرار نہیں رکھ سکے کیونکہ جیوترادتیہ سندھیا اور تقریباً دو درجن پارٹی قائدین نے سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی جس کے نتیجے میں کمل ناتھ زیرقیادت مدھیہ پردیش حکومت گر گئی ۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس نے 68 نشستیں جیتے جبکہ بی جے پی نے محض 15 سیٹ حاصل کئے ۔ اول الذکر نے 43 فیصد ووٹ تناسب حاصل کیا ۔ اس اسمبلی میں 90 نشستیں ہیں اور سادہ اکثریت کا نشان 46 ہے ۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس نے لگ بھگ مساوی سیٹوں پر اختتام کیا تھا یعنی ترتیب وار 109 اور 114 ۔ ریاست میں 230 رکنی اسمبلی ہے جس میں سادہ اکثریت کا نشان 116 ہے ۔ ووٹ کا تناسب بی جے پی اور کانگریس دونوں کیلئے 41 فیصد رہا تھا ۔ راجستھان میں 200 نشستی اسمبلی میں اکثریتی نشان 101 ہے جبکہ کانگریس نے 100 اور بی جے پی نے 73 سیٹ جیتے تھے ۔ اشوک گہلوٹ کی قیادت میں کانگریس حکومت بی ایس پی کی مدد سے تشکیل پائی جس کے چھ نشستیں ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی الیکشن کے اس راؤنڈ میں واحد جنوبی ریاست ہے جس کی مجموعی نشستیں 119 ہیں ۔ اکثریتی نشان 60 ہے ۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی بی آر ایس نے 2018 ء میں 88 سیٹیں جیتے تھے ۔ کانگریس 19 سیٹوں کے ساتھ کافی فرق والے دوسرے مقام پر رہی تھی ۔ تاہم اس مرتبہ کرناٹک میں کامیابی کے بعد کانگریس کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔