پاکستان کے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کا مقصد ایف اے ٹی ایف میں درپیش مشکلات کو دور کرنا ہے

,

   

حافظ کی ریالی منسوخ‘اظہر کے خلاف بھی کاروائی میں تیزی

نئی دہلی۔ پاکستان حکومت نے پچھلے ماہ لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے صدر حافظ سعید اور اس کے سالے عبدالرحمن مکی کے خلاف کچھ کاروائی کی ہے‘ اور جیش محمد (جے ای ایم) کے صدر مسعود اظہر کی سرگرمیوں پر روک لگائی‘ جس کا مقصد بین الاقوامی

کمیونٹی اس ماہ میں منعقد ہونے والی اہم فینانسل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی میٹنگ کے دوران اپنے موقف کی وضاحت کرنا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کثیر طور پر دہشت گردی پر مشتمل فنڈنگ کی نگرانی کے لئے واچ ڈگ کا کام کرتا ہے‘ جس کا اجلاس 20-21جون کو اولانڈو‘ فلوریڈا میں منعقدہ ہوگا‘ اس وقت پاکستان کی پروگریس پر 27نکاتی پروگرام ایکشن پلان کو تبادلے خیال میں لایاجائے گا‘

حالانکہ ایف اے ٹی ایف کے پیرس میں منعقد ہوئے سالانہ اجلاس میں ایک فیصلہ لیاگیاتھا کہ پاکستان کو ”گری لسٹ“ میں سے ہٹاکر ”بلیاک لسٹ“ میں شامل کردیاجائے اور اس کے لئے توقع ہے اکٹوبر میں پندرہ ماہ تک کے لئے دیاگیا وقت قریب الختم ہے۔

اس ڈیولپمنٹ سے قریب سے واقف ایک فرد نے ایچ ٹی کو بتایا کہ مکی کو 15مئی کے روز پاکستانی انتظامیہ نے گرفتار کرلیاتھا اور ایل ای ٹی چیف کو چہارشنبہ کے روز عید الفطر کے موقع پر قذافی اسٹیڈیم سے خطاب کے لئے روک دیاگیا۔

ایف اے ٹی ایف میٹنگ سے قبل اس قسم کی کاروائی یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان کس قدر دہشت گرد گروپس کے خلاف”سنجیدہ ہے“۔

حافظ کے سرپر 10ملین امریکی ڈالر اور مکی کے سر پر 2ملین امریکی ڈالر کا انعام ہے۔

پاکستانی انتظامیہ نے اظہر اور اس کے بھائیوں اظہر ابراہیم اور راؤف اصغر سے بھی استفسار کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اپنی سابق میں سرگرمیوں جوبھاول پور میں جاری رہیں

تھیں اس میں کمی لائے‘ جس فرد کے حوالے سے یہ بات کہی گئی ہے اس نے مزیدبتایا کہ14فبروری کو پیش ائے پلواماں دہشت گرد حملے کے بعد راؤف اصغرکو احتیاطی طو رپر حراست میں رکھا گیاتھا‘

اب آزاد گھوم رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے علاوہ امریکہ نے مارچ میں پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہاکہ تھا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف”سخت کاروائی کرے“ جو اس کی سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے سرحد کے پاس حملہ انجام دے رہے ہیں۔

مذکورہ ڈیولپمنٹ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ہندوستان کو واشنگٹن کے بھرپور ساتھ کے اعلان کے بعد سامنے آیاہے۔

پاکستان کا یہ نیا حربہ بین الاقوامی فنڈ سے کثیر ارب ڈالر کے قرض کو محفوظ کرنا ہے بھی ہے جو انٹرنیشنل مانٹیری فنڈ کاحصہ ہے۔

سابق پاکستانی ہائی کمشنر برائے پاکستان شرت سبراول نے کہاکہ جب بھی ایف ٹی اے ایف کا اجلاس ہوتا ہے اس وقت پاکستان کی جانب سے اس قسم کا کھیل کوئی نئی بات نہیں ہے