کانگریس کا ٹارگٹ 15،وزارت میں برقراری کا انحصار لوک سبھا نتائج پر

   

کے سی وینوگوپال کا سخت موقف، انتخابی مہم کی تکمیل تک حلقوں میں قیام کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/16 اپریل، ( سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ میں لوک سبھا کی 15 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کرکے ریاستی وزراء پر اہم ذمہ داری عائد کی ہے۔ پارٹی نے وزراء کو انتخابی نتائج میں اہم رول ادا کرنے شرط رکھی کہ لوک سبھا چناؤ میں کارکردگی کی بنیاد پر وزارت میں برقراری کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پارٹی نے وزراء کو مختلف حلقوں کا انچارج مقرر کیا ۔ اگر وزراء اپنے تفویض لوک سبھا حلقوں میں کانگریس کو کامیاب بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی وزارت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے گذشتہ دنوں وزراء و سینئر قائدین کے اجلاس میں وضاحت کی کہ نتائج کی بنیاد پر وزارت میں برقراری کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کمان وزراء کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کے سی وینوگوپال کے اجلاس کے بعد سے وزراء اپنے حلقوں میں متحرک ہوچکے ہیں۔ بتایا گیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مشورہ کے بعد ہی ہائی کمان نے وزراء پر دباؤ برقرار رکھنے وزارت کی شرط رکھی ہے۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کو چھوڑ کر باقی 10 وزراء کو مختلف لوک سبھا حلقوں کا انچارج مقرر کیا گیا ۔ وزرا سے کہا گیا کہ وہ 11 مئی کو انتخابی مہم کے اختتام تک مفوضہ حلقوں میں قیام کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد کابینہ کی 6 مخلوعہ نشستوں کو پُر کیا جائے گا اوراس وقت موجودہ وزراء کی برقراری کا فیصلہ انتخابی نتائج پر رہیگا۔ کے سی وینوگوپال نے سروے رپورٹس کا حوالہ دیا جس میں بی آر ایس کے کمزور ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے اور اصل مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہوگا۔ وینوگوپال نے تمام انچارج وزراء اور قائدین کو ہدایت دی کہ وہ بی آر ایس ووٹ بینک کو کانگریس کی طرف منتقل کرنے کی مساعی کریں۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال ہائی کمان نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو چیوڑلہ و محبوب نگر جبکہ بھٹی وکرامارکا کو سکندرآباد حلقہ کا انچارج مقرر کیا تھا۔ 31 مارچ کو نئے احکام جاری کرکے چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کو انچارجس کی ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا۔ موجودہ وزراء میں پی سرینواس ریڈی ( کھمم ) ، اتم کمار ریڈی ( نلگنڈہ )، پونم پربھاکر ( کریم نگر )، سریدھر بابو ( پیدا پلی )، ناگیشور راؤ ( محبوب آباد)، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ( سکندرآباد) ، جوپلی کرشنا راؤ ( ناگر کرنول ) ، کونڈہ سریکھا ( میدک )، بی انوسیا سیتکا ( عادل آباد ) اور دمودھر راج نرسمہا کو ظہیرآباد کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔1