کرونا کا خوف دیکھا کر ہنگری میں جمہوریت کا خاتمہ‘ وکٹر اربن تاحیات وزیراعظم رہیں گے

,

   

ہنگری۔دنیا بھر میں کرونا وائرس نے اپنی دہشت مچائی ہوئی ہے۔ یہ جان لیوا وائرس دنیا کے لگ بھگ ہر ملک میں پہنچ چکا ہے۔

اب تک پوری دنیا میں دس لاکھ سے زائد لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور 56ہزار سے زیادہ اس وباء سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

وہیں کرونا وائر س کی آڑ لے کر دنیا بھر میں جمہوریت کا قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔

تازہ معاملے یوروپ کے ملک ہنگری کا ہے‘ جہاں کرونا وائرس سے ڈر کے آڑ میں جمہوریت کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم وکٹر اربن کو ہمیشہ اقتدار پر قائم رہنے کے لئے ہنگری کے پارلیمنٹ کے اختیار دیدیا ہے۔ وزیراعظم اربن کی ارٹی کو پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

دراصل یہاں کرونا وائرس کو لے کر پارلیمنٹ میں ل پیش کیاگیا‘ اس بل کے تحت ہی وزیراعظم کو ہمیشہ اقتدار میں برقرار ہنے کا اختیار کی ترمیم لائی گئی ہے۔ یہ بل اس طرح بنایاگیا ہے کہ اب یہاں پر الیکشن یا عوامی رائے جیسے جمہوری عمل پر غیرمعینہ مدت کے لئے روک لگادیاگیا ہے۔

بل میں اس بات کی جانکاری نہیں دی گئی ہے کہ ایمرجنسی کا اختتام کب عمل میں ائے گا‘ اس طرح کے عمل کا اختیار حکومت کے پاس ہے کہ وہ کب ایمرجنسی کوختم چاہتی ہے۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کرتا ہے کہ تمام طاقت حکومت کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔دراصل پچھلے ایک سال سے ہنگری میں جمہوریت کی جڑوں کو کچلنے کاکام کیاجارہاتھا۔

عالمی وباء کے شروعات سے قبل ہی حکومت نے کئی تہذیبی وسماجی تنظیموں پر امتناع عائد کردیاتھا۔ حکومت کا کہناتھا کہ پارلیمنٹ کے پاس ایمرجنسی کب ختم کرنا ہے اس بات کا مکمل اختیار ہے۔

 

اس پر جمہوری حمایت کرنے والوں نے مثال پیش کی تھی کہ پارلیمنٹ میں اپوزشن کے پاس اکثریت نہیں ہے‘ اس لئے یہ کیسی سرکاری کا فیصلہ کو پلٹ سکتے ہیں۔

ہنگری نے جو نیا قانون نافذ کیاہے اس کے تحت غلط خبر شائع کرنے پر صحافی یا کسی دوسرے شہری کو پانچ سال تک جیل کی ہوا کھانی پڑسکتی ہے۔

ماضی میں ہنگری میں کرونا وائرس سے 623معاملات سامنے الے ہیں اور اس جان لیوا وائرس سے پورے یوروپ میں 26لوگوں کی موت ہوئی ہے