کسانوں نے مئی2024تک احتجاج کی تیاری کرلی ہے۔ تاکیت

,

   

ناگپور۔ بھارتیہ کسان یونین(بی کے یو) لیڈر راکیش تاکیت نے اتوار کے روز کہا ہے کہ کسانوں نے ”مئی 2024“ تک مرکز کے زراعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کی تیاری کرلی ہے اور دہلی کی سرحدوں پر جاری احتجاج کو ”نظریاتی انقلاب“ قراردیاہے۔

ناگپور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاکیت نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ قانونی طور پر ایم ایس پی کی ضمانت دی جائے۔

دہلی کی سرحدوں پر 26 نومبر2020سے کسان احتجاج کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ نئے زراعی قوانین کو برخواست کریں‘ جس کو مرکز زراعی شعبہ میں ایک بڑی اصلاح کے طورپر پیش کررہی ہے اور اس سے درمیانی آمدنی کو ہٹادیاجائے گا اور کسانو ں کو ملک بھر میں کہیں بھی اپنے فصل بیچنے کی منظوری ملتی ہے۔

جب تاکیت سے کسانوں کے احتجاج کب تک جاری رہنے پر استفسار کیاگیا تب تاکیت نے کہاکہ ”ہم نے 2024مئی تک احتجاجی دھرنے کی تیاری کرلی ہے۔

ہماری مانگ تین زراعی قوانین واپس لئے جائیں اور حکومت ایم ایس پی کی قانونی تمانعت فراہم کرے“۔اگلے لوک سبھا الیکشن اپریل مئی2024میں متوقع ہیں۔ امیر کسانوں کی جانب سے احتجاج کو آگ لگانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے تاکیت نے کہاکہ گاؤں اور دیگر تنظیموں کے لوگ احتجاج میں جڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ”یہ دہلی سے شرو ع ہونے والے کسانوں کے نظریاتی انقلاب ہے اور جو کبھی ناکام نہیں ہوگا۔ دیہاتوں سے کسان اس وقت تک واپس نہیں جانا چاہتے جب تک تین زراعی بل واپس نہیں لئے جاتے ہیں“۔

تاکیت نے مزیدکہاکہ”حکومت مذکورہ بلوں کو واپس نہ لینے کے موقف پر قائم ہے اور یہ احتجاج طویل مدت تک جاری رہے گا“۔

زراعی قوانین کے نفاذ پررو ک لگانے کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا انہوں نے خیر مقدم کیا مگر کہاکہ جس کمیٹی کا عدالت عظمیٰ نے تشکیل دی ہے وہ مذکورہ قوانین کی”حمایت“ کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی سے ہم رجوع نہیں ہونا چاہتے ہیں۔مذکورہ حکومت نے یہ بھی کہاکہ یہ حکومت اور کسانوں نے اس مسلئے کی حل تلاش کریں گے“۔