چینائی: ٹاملناڈوکے 19 نوجوان جنہیں کویت میں گزشتہ سال سے ایک ٹریول ایجنسی نے یرغمال بنا رکھا تھا، کو ہندوستانی سفارت خانے نے بازیاب کرایا اور بالآخر جمعرات کو وہ چینائی ایرپورٹ پہنچ گئے۔ ان نوجوانوں نے ایک ٹریول ایجنسی کو فی کس ایک لاکھ روپے ادا کیے تھے جو مئی 2022 میں انہیں مفت قیام اورکھانے کے ساتھ 60 ہزار روپے تنخواہ کے وعدے پرکویت لے گئی تھی۔
خوابوں کی دنیا کی سر زمین پہنچنے پر نوجوانوں کو بتایا گیا کہ انہیں صرف 18,000 روپے ماہانہ ملیں گے اور انہیں ان کی رہائش اورکھانے کا خرچہ ادا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں سے زیادہ گھنٹے کام کرنے کو کہا گیا۔ نوجوانوں نے ایجنسی سے معاہدہ توڑنے اور انہیں رہا کرنے کے لئے کہا لیکن ایجنسی نے اصرارکیا کہ انہیں معاہدہ توڑنے کے لئے ہر ایک کو 60 ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ نوجوانوں کو اس سال جون میں بتایا گیا تھا کہ ان کے ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور انہیں ویزا کی تجدید کے لیے ہر ایک کو 1,25,000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔تاہم نوجوانوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تجدید کے لیے رقم نہیں ہے۔ اس سے ایجنسی کے لوگ مشتعل ہوگئے جنہوں نے فوری طور پر اپنے کمروں سے بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا۔ اس دوران نوجوانوں نے ہندوستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا اور اس آزمائش کو بیان کیا۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اور 19 نوجوانوں کی رہائی کے لیے کویت میں ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا۔