گاندھی ہاسپٹل میں مریضوں کے ساتھ صرف دو تیمار داروں کی اجازت

   

سکیوریٹی عملہ سے جھگڑے پر قانونی کارروائی ۔ سپرنٹنڈنٹ ہاسپٹل کا بیان
حیدرآباد۔ 26 فروری (یو این آئی) حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایم راجاراؤ نے کہا کہ گاندھی ہاسپٹل میں مریض کے ساتھ صرف ایک یا دو رشتہ داروں کو ہی دواخانہ کے اندر آنے کی اجازت دی جائے گی۔ بعض اوقات 6 سے 10 افراد ہاسپٹل آتے ہیں، گیٹ پر موجود عملے سے جھگڑتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور مار پیٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب خاندان کے کسی فردکی حالت نازک ہوتی ہے تو وہ ان کی صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کو مریض کا معائنہ کرنے اور علاج فراہم کرنے مناسب ماحول کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو ان کے ساتھ آنے والوں سے انفکشن کا خطرہ ہے ، خاص طور پر کیزولٹی، آئی سی یو، پوسٹ آپریٹو وارڈز اور ایمرجنسی وارڈز میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے تاہم مریضوں کے ساتھ آنے والے اس بات کو سننے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مریضوں کے رشتہ داروں نے حال میں کئی بار سیکورٹی اور صفائی عملہ پر حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چلکل گوڑہ پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور تحقیقات جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں سے شام 4 بجے سے 6 بجے کے درمیان ملنے کی اجازت ہے ۔ سیکوریٹی میں اضافہ کردیاگیا ہے اور اسپتال آنے والوں کو گیٹ پر مکمل تلاشی کے بعد ہی اندر جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صفائی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں تاہم باہر سے آنے والے مریضوں کے رشتہ دار وارڈس اور گردونواح میں تھوکنے اور بیت الخلاء کو ناپاک بنانے جیسے کام کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سینٹری اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے وارڈس اورکاریڈارس کی صفائی میں پہلے سے زیادہ بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پارکنگ صرف گاڑیوں کیلئے مخصوص جگہوں پر کی جانی چاہیے اور قوانین پر عمل کرنا چاہیے ۔
شہر کے مضافات میں دو نوجوانوں کی اجتماعی خودکشی
حیدرآباد۔ 26 فروری (سیاست نیوز) حیدرآباد کے مضافات میں دو نوجوانوں کی اجتماعی خودکشی سے سنسنی پھیل گئی۔ 19 سالہ سائی اور 21 سالہ گنیش دونوں روم میٹ تھے جنہوں نے آج خودکشی کرلی۔ ان دونوں نوجوانوں کی اجتماعی خودکشی کی اصل وجوہات کا پتہ نہ چل سکا۔ تاہم ان کے ایک ساتھ رہنے اور ایک ساتھ مرنے پر ہم جنس پرست ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس واقعہ کا انکشاف آج صبح کے اوقات ہوا جو چودھری گوڑہ وجے پوری کالونی میں رہتے تھے اور طالب علم بتائے گئے ہیں۔ ایک نے پھانسی لے کر خودکشی کرلی جبکہ دوسرے نے زہریلی دوا کا استعمال کرلیا۔ اطلاع کے بعد پولیس نے ضابطہ کی کارروائی انجام دی اور اس اجتماعی خودکشی کے واقعہ کی ہر زاویہ سے تحقیقات کررہی ہے۔ ع