گریٹر حیدرآباد میں ووٹر نوٹس کا نیا بحران، بی ایل اوز کی ہٹ دھرمی

   

نوٹس دینے گھروں کو جانے کے بجائے فون کر کے اپنے پاس طلب کیا جارہا ہے ، دھمکیوں سے ووٹرس میں تشویش
حیدرآباد : 24 اگست ( سیاست نیوز) تلنگانہمیں ووٹر لسٹوں کی جامع نظر ثانی کا عمل اپنے اہم اور حساس مرحلے میں داخلے ہوچکا ہے لیکن زمینی سطح پر بی ایل اوز کے رویہ نے ایک بار پھر شہریوں کو شدید تشویش اور اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب SIR مہم کا آغاز ہوا تھا تب بھی گریٹر حیدرآباد کے حدود میں انیومریشن فارمس میں تاخیر ہوئی تھی ، بی ایل اوز کی جانب سے ووٹرس کے گھر پہنچ کر فارمس تقسیم کرنے کے بجائے انہیں کسی پارٹی کے دفتر ، فنکشن ہالس ، کمیونسٹی سنٹرس یا اپنے گھروں کو طلب کرتے ہوئے فارمس تھما دیئے گئیتھے ۔ اب نوٹس کی اجرائی میں وہی لاپرواہی دوہرائی جارہی ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے بی ایل اوز کو واضح احکامات جاری کئے تھے ۔ وہ بذات خود ووٹرس کے مکانات پر جائیں نوٹس حوالے کریں اور اس کی تصویر خصوصی ایپ پر اپ لوڈ کریں ۔ تاہم بی ایل اوز ان احکامات کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ بی ایل اوز ووٹرس کے گھر جانے کی زحمت اٹھانے کے بجائے فون کر کے انہیں آدھے ایک گھنٹے کے اندر کسی مخصوص مقام پر پہنچنے کا حکم دے رہے ہیں ۔ دیئے گئے وقت پر نہ پہنچنے کی صورت میں ان کی نوٹس ہیڈ آفس کو پہنچانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس سے عواممیں برہمی کے ساتھ تشویش بھی پائی جاتی ہے ، کیونکہ لوگ ڈیوٹی پر ہونے کاروبار ، محنت مزدوری سے وابستہ ہوتے ہیں یا پھر کسی سفر پر ہونے کے ساتھ بیمار بھی ہوسکتے ہیں ۔ ایسے میں بی ایل اوز کے دیئے گئے وقت پر پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔ اس اہم موڑ پر بی ایل اوز کا ڈرنا دھمکانا مضحکہ خیز ہے ۔ بی ایل اوز کی اس ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ کی وجہ سے عوام میں خوف اور تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں وہ حق رائے دہی سے محروم تو نہیں ہوجائیں گے ۔ شہریوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ بی ایل اوز کے اس عدم تعاون رویہ کا سخت نوٹ لیں ۔ نوٹس گھروں تک نہ پہنچانے والے بی ایل اوز کے خلاف سخت انتظامی و تادیبی کارروائی کریں ۔ 2/i