گوانتانامو بے سے گیارہ یمنی شہریوں کی رہائی

   

نیویارک: گوانتانامو بے کی بدنام زمانہ امریکی قید خانے میں اب صرف پندرہ قیدی بچے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ یہاں تقریباً 700 قیدی تھے، جن میں سے اکثر پر کبھی بھی جرائم کا کوئی الزام تک نہیں عائد کیا گیا۔امریکہ نے کیوبا میں گوانتانامو بے میں قائم اپنے متنازعہ بحری اڈہ میں قید یمن کے 11 شہریوں کو رہا کر دیا ہے، جہاں وہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے بغیر کسی الزام کے قید میں تھے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹگان نے پیر کے روز دیر گئے اعلان کیا کہ ان 11 افراد کو عمان منتقل کر دیا گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ اپنے آخری ہفتوں میں بغیر کسی الزام کے ایسے قیدیوں کی سہولت کو ختم کرنے پر زور دیتی رہی اور اسی سلسلے میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔محکمہ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ حکومت عمان اور اپنے دیگر شراکت داروں کی جانب سے قیدیوں کی آبادی کو ذمہ داری سے کم کرنے اور بالآخر گوانتاناموبے کی سہولت کو بند کرنے پر مرکوز امریکی کوششوں کی حمایت کرنے کیلئے ان کی آمادگی کو سراہتا ہے۔ امریکہ میں قائم آئینی حقوق سے متعلق ایک ادارے کے مطابق، تازہ ترین منتقلی میں جن افراد کو رہا کیا گیا ہے، اس میں شقاوی الحاج بھی شامل ہیں، جنہوں نے بغیر کسی الزام کے 21 برس تک قید میں رہنے کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتالیں بھی کیں۔ انہیں دو سال تک حراست کے دوران زبردست تشدد اور ایزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ایک ہفتے قبل بھی امریکہ نے گوانتاناموبے کے ایک اور قیدی کو تیونس واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد گیارہ یمنی شہریوں کو رہا کیا گیا ہے، اس طرح سے گوانتاناموبے میں بند قیدیوں کی کل تعداد کم ہو کر 15 رہ گئی ہے۔