کابینہ کے اجلاس کے بعد مسئلہ موضوع بحث، سپریم کورٹ فیصلہ کی گنجائش نظرانداز
حیدرآباد۔31۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں گورنر کوٹہ کے تحت نامزد اراکین قانون ساز کونسل کے لئے کی جانے والی سفارشات کا معاملہ ریاست بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے کابینہ کے اجلاس کے دوران کئے گئے فیصلہ کے مطابق گورنر تلنگانہ کو سابق کرکٹر محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودنڈا رام کے نام کو منظور دیتے ہوئے انہیں گورنر کوٹہ کے تحت نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ سپریم کورٹ میں گورنر کوٹہ کے تحت ارکان قانون ساز کونسل کی نامزدگی کے سلسلہ میں جاری بی آر ایس قائدین ڈاکٹر ڈی شرون کمار اور مسٹر کے ستیہ نارائنہ کی درخواست CA.14172/24 کے علاوہ CA.14173/2025 میں 13اگسٹ کو جو احکام جاری کئے تھے اس کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا کی بنچ جو کہ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل تھی نے تلنگانہ ہائی کور ٹ کے احکامات پر سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کئے گئے حکم التواء کو برخواست کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈا رام اور جناب عامر علی خان کی قانون ساز کونسل کی رکنیت کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن بہ حیثیت رکن قانون ساز کونسل دونوں ارکان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو اس بات کا اختیار دیا تھا کہ وہ درخواست گذار بی آ ر ایس قائدین شرون کمار اور کے ستیہ نارائنہ جن کے نام کی سفارشات کو سابق گورنر تلنگانہ محترمہ تمیلی سائی سوندراراجن نے سیاسی تعلق ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیا تھا انہیں یا پھر پروفیسر کودنڈا رام اور جناب عامر علی خان کے ناموں کی دوبارہ سفارش کا اختیار دیا تھا ۔ 13 اگسٹ کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات میں عدالت نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ گورنر کوٹہ کے تحت نامزد کئے جانے والے اراکین قانون ساز کونسل کو اگر نامزد کیا بھی جاتا ہے تو ان کی برقراری کا انحصار سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ پر ہوگا لیکن عدالت نے گورنر کو حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے ناموں کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا مجاز گردانا ہے اور اس بات کی احکام میں صراحت کی گئی ہے کہ ریاستی کابینہ دوبارہ شرون کمار ‘ کے ستیہ نارائنہ ‘ پروفیسر کودنڈا رام کے علاوہ جناب عامر علی خان کے ناموں کی سفارش کی مجاز ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے اس فیصلہ کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی زیر قیادت ریاستی کابینہ نے گذشتہ یوم منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلہ کے مطابق پروفیسر کودنڈا رام کے علاوہ جناب عامر علی خان کے بجائے ان کی جگہ سابق کرکٹر محمد اظہر الدین کے نام کو قطعیت دیتے ہوئے گورنر کو روانہ کیا ہے ۔ اب گورنر کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ ان ناموں کو منظوری دے یا مسترد کرے کیونکہ سپریم کورٹ نے قوانین کے مطابق گورنر کو اس بات کا اختیار دیا ہے۔3