گورنر کوٹہ کے تحت رکن قانون ساز کونسل کی نامزدگی کا مسئلہ

   

محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودانڈا رام کی رکنیت کے خلاف ڈی شراون سپریم کورٹ سے رجوع

حیدرآباد۔7 ۔مئی ۔ (سیاست نیوز) گورنر کوٹہ کے تحت رکن قانون ساز کونسل کی نامزدگی اور گورنر کی جانب سے منظوری اور اراکین کی حلف برداری ایک مرتبہ پھر قانونی تنازعہ کا شکار ہوئی ہے۔ قانون سازکونسل گورنر کوٹہ کے تحت منظور کی گئی رکنیت کے خلاف رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس مسٹر ڈی شرون کمار نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرکے اس کی عاجلانہ سماعت کی خواہش کی ۔ ریاستی کابینہ سے محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودنڈا رام ریڈی کے ناموں کی گورنر کوٹہ میں رکن کونسل کیلئے سفارش کے 9ماہ بعد گورنر تلنگانہ نے ان ناموں کو دی ۔ منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرکے شرون کمار نے ان کے اور بی آر ایس قائد کے ستیہ نارائنہ کی جانب سے داخل مقدمہ میں I.A داخل کیا ہے اور حکومت سے جاری جی او ایم ایس 71 کو چیالنج کیا ہے۔ انہو ںنے درخواست میں دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت کا اقدام عدالت کے پچھلے احکامات کی روح کے منافی ہے اسی لئے اگر مقدمہ کی فوری سماعت نہیں کی گئی تو بنیادی مقدمہ پر اس کے منفی اثرات کا خدشہ ہے اسی لئے اس مقدمہ کی عاجلانہ سماعت کی جانی چاہئے ۔گورنر تلنگانہ مسٹر شیوپرتاپ شکلا کی جانب سے محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودنڈا رام کے ناموں کو منظوری کے بعد حکومت نے جی او ایم ایس 71 جاری کرکے وزیر اقلیتی بہبود اور پروفیسر کودنڈا رام کو رکن کونسل کا حلف دلانے کی راہ ہموار کی تھی اور جی او کی اجرائی کے بعد دونوں اراکین کو صدرنشین کونسل جی سکھیندر ریڈی نے حلف دلایا۔ دونوں اراکین کونسل کی حلف برداری کے ساتھ ہی جی او ایم ایس71 پر قانونی رسہ کشی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ گذشتہ دنوں جناب سید حیدر رضا نقوی نے شیعہ سیول کونسل فار سوشل جسٹس کی جانب سے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرکے مذکورہ جی او کو کالعدم قرار دینے کی خواہش کی گئی تھی۔3