گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج چارمینار کے وجود کو خطرہ لاحق

   

سال رواں بی یو ایم ایس اور پی جی نشستوں پر کوئی داخلے نہیں دئے جائیں گے

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 18 ستمبرطب یونانی کے فروغ اور تحفظ کیلئے محکمہ صحت کی غفلت اور گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتیجہ میں جاریہ سال بی یو ایم ایس اور پی جی نشستوں پر داخلہ نہیں دیئے جائیں گے۔نظامیہ طبی کالج ‘ چارمینار میں سال 2026-2027 میں بی یو ایم ایس گریجویٹ داخلے نہیں دیئے جائیں گے۔ کالوجی نارائن راؤ یوینورسٹی آف ہیلت سے جاری اعلامیہ کے مطابق ’میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ آف انڈین سسٹم آف میڈیسن‘ کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا کہ نظامیہ طبی کالج میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن نے ماہ جون میںدورہ کے دوران جن خامیوں اورسہولتوں میں کمی کی نشاندہی کی تھی وہ جملہ 17 ہیں اور ان خامیوں اور کمیوں کو دور کئے بغیر بی یو ایم ایس میں داخلوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جون میںکمیشن کے ذمہ داروں نے کالج کا دورہ کرکے جن خامیوں کی نشاندہی کی ان میں لائبریری‘ ہربل گارڈن‘ عملہ کی قلت‘تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی قلت ‘ دواخانہ میں سہولتوں کی عدم موجودگی کے علاوہ انتظامی عملہ نہ ہونے کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے تک نئے داخلوں کی اجازت نہ دینے کی سفارش کی تھی۔بتایا گیا کہ اس رپورٹ کے باوجود محکمہ صحت و آیوش سے یونانی طبی کالج کے حالات میں سدھار لانے اقدامات نہ کئے جانے سے نظامیہ طبی کالج چارمینار کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ۔ حکومت کے ذمہ داروں کو واقف کروائے جانے کے باوجود محکمہ آیوش نے صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی جس کے نتیجہ میں اب یہ حالت ہوچکی ہے کہ بی یو ایم ایس کی 94 نشستوں کے علاوہ پوسٹ گریجویشن کی 45نشستوں پر کوئی داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ ستمبر کے اوائل میں کمیشن کی رپورٹ کے بعد اب کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی نے بھی نظامیہ طبی کالج میں داخلہ فراہم نہ کرنے اعلامیہ جاری کردیا ۔ بی یو ایم ایس اور یونانی پوسٹ گریجویشن میں داخلے نہ دیئے جانے کے بعد یونانی میں اعلیٰ تعلیم و گریجویشن کے خواہشمندوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے ۔ کہا جارہاہے کہ طلبہ جو کہ نظامیہ طبی کالج میں 2026-27 کے داخلوں کے منتظر تھے ان میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔محکمہ صحت و آیوش عہدیدار اس مسئلہ پر خاموش ہیں ۔