ٹمریز کا نظام درہم برہم، بچوں کا تحفظ خطرہ میں، محمد محمود علی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 27 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سینئر قائد سابق ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج گولکنڈہ میں واقع اقلیتی اقامتی کالج ہاسٹل (ٹمریز) کا دورہ کیا۔ انہوں نے چند دن قبل پیش آئے بن بیاہی طالبہ کے حاملہ ہوجانے اور ہاسٹل میں نومولود کو قتل کردینے کے واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بعدازاں انہوں نے بی آر ایس کے ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس حکومت کی پالیسیوں اور ہاسٹل انتظامیہ کی لاپرواہی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر بی آر ایس کے قائدین رحیم اللہ خان نیازی، ارشد علی خان کے علاوہ دیگر موجو تھے۔ محمد محمود علی نے گولکنڈہ ہاسٹل کے واقعہ کو اب تک کا سب سے بڑا اور افسوسناک واقعہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورحکومت میں ٹمریز کے تعلیمی اداروں کی صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔ طلبہ کا تحفظ اور انتظام داؤ پر لگ گیا ہے۔ بی آر ایس کے دورحکومت میں ان تعلیمی اداروں میں داخلوں کیلئے مسابقت ہوا کرتی تھی۔ داخلوں کیلئے طلبہ کو انتظار کرنا پڑتا تھا۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد کانگریس حکومت نے ان باوقار تعلیمی اداروں کو نظرانداز کردیا۔ معیار تعلیم بھی گھٹ رہا ہے۔ کئی نشستیں مخلوعہ ہیں۔ طلبہ کو ان تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔ محمد محمود علی نے گولکنڈہ ٹمریز کالج کے انتظامیہ اور حکومت پر برہمی کا اظہارکیا اور کہا کہ یہ واقعہ ہاسٹل انتظامیہ اور حکومت کی عدم توجہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے غریب اقلیتی طلبہ کو کارپوریٹ سطح کی معیاری تعلیم مفت فراہم کرنے کیلئے ان تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جہاں معیاری غذا اور محفوظ ماحول کا ایک شاندار نیٹ ورک قائم کیا تاہم موجودہ کانگریس حکومت کی لاپرواہی، فنڈز کی قلت اور عدم توجہ کی وجہ سے آج ٹمریز کا پورا نظام درہم برہم ہوچکا ہے جس کے باعث ہاسٹلس میں زیرتعلیم بچوں کا تحفظ خطرہ میں پڑ گیا ہے۔2