گھر میںوقت گذر جائیگا، تجارت کے بغیرگذربسر کیسے ہوگا؟

   

لاک ڈاؤن کی سختی کے درمیان کاروبار اور عبادت گاہیں بند، شراب کی دکانات کھل گئیں
حیدرآباد۔6مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کی مدت میں کی جانے والی 29 مئی تک کی توسیع کے بعد شہریوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ گذشتہ 50 یوم سے لاک ڈاؤن کے اصولوں کی پابندی کر رہے شہریوں کو توقع تھی کہ اس مرتبہ ریاستی حکومت کی جانب سے کچھ حد تک رعایت دیتے ہوئے شہریوں کو تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت فراہم کی جائے گی لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے صرف شراب کی دکانات کو رعایت کی فراہمی کے ساتھ لاک ڈاؤن میں توسیع کرتے ہوئے شہریوں کو مایوس کردیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ یوم اپنی پریس کانفرنس کے دوران واضح کردیا کہ اس مرتبہ عید کے موقع پر بھی عید گاہ کو جانا نہیں ہے اور نہ ہی خریداری کی کوئی گنجائش ہے لیکن اب تک جو شہری لاک ڈاؤن کے اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں ان میں بھی اب بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ اب انہیں اس بات کا احساس شدت سے ہونے لگا ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے زندگی گذاری جاسکتی ہے لیکن تجارتی سرگرمیوں کے بغیر گذربسر مشکل ہے ۔ شہر میں موجود تجارتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کیا سرگرمیاں جو بلکل بند ہیں ان کا کہناہے کہ وہ کام کے ساتھ وقت گذاری کے عادی ہیں لیکن وہ اتنی طویل مدت تک بیروزگار رہتے ہوئے وقت گذاری کے متحمل نہیں ہیں اور نہ ہی وہ ایسا مزید برداشت کرنے کے موقف میں ہیں۔حکومت کی جانب سے 29 مئی تک لاک ڈاؤن کو جاری رکھنے کے فیصلہ پر عوام کا ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے لیکن لاک ڈاؤن میں کوئی راحت نہ دینے کے فیصلہ کے ساتھ شراب کی فروخت کی اجازت فراہم کئے جانے پر کئی گوشوں کی جانب سے شدید اعتراض کیا جارہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ جس جس کے استعمال کے بعد کے بعد انسان ہوش میں نہیں رہتا اس چیز کی فروخت کی حکومت کی جانب سے اجازت دی جا رہی ہے اورجس چیز کے استعمال سے پھیپھڑے متاثر ہونے کا قوی امکان ہے اس شئے کو فروحت کرنے کی اجازت فراہم کی جا رہی ہے اور جو اشیاء شہریوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔