کسانوں کی مالی امداد کا فیصلہ چیف منسٹر تک پہنچ گیا، ٹیلیفون ٹیاپنگ کے جواب میں کے سی آر کی جاسوسی کا الزام
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ان دنوں ٹیلیفون ٹیاپنگ اسکام کی دھوم ہے اور سابق بی آر ایس حکومت پر اپوزیشن قائدین کے ٹیلیفون ٹیاپ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ ایک طرف اس معاملہ کی جانچ تیزی سے جاری ہے لیکن سابق چیف منسٹر کے سی آر کے مکان کی مخبری کے تازہ ترین معاملہ میں بی آر ایس قائدین میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ کے سی آر اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ بھی مشاورت اور فیصلے کر رہے ہیں، اس کی فوری طور پر برسر اقتدار پارٹی بالخصوص چیف منسٹر تک اطلاع پہنچ رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں کسانوں کی فصلوں کو بھاری نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے کریم نگر روانگی سے ایک دن قبل کے سی آر نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے ساتھ مشاورت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ فصلوں کو نقصانات پر پارٹی کی جانب سے مالی امداد کا اعلان کیا جائے۔ کے سی آر مالی امداد کا اعلان کریم نگر پہنچ کر پریس کانفرنس میں کرنے والے تھے لیکن ایک دن قبل چیف منسٹر ریونت ریڈی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ الیکٹورل بانڈ سے حاصل شدہ 1200 کروڑ کی آمدنی میں سے کم از کم 200 کروڑ کسانوں کی امداد کے طور پر اعلان کریں۔ چیف منسٹر کی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی کے سی آر چوکس ہوگئے اور اپنے گھر کے اس جاسوس کی تلاش شروع کردی جس نے یہ رازدارانہ گفتگو حکومت تک پہنچائی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘۔ ٹھیک اسی طرح کے سی آر کے گھر میں موجود حکومت کے کسی بھیدی نے یہ رازدارانہ فیصلہ کو پہنچا دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کی پریس کانفرنس کے بعد کے سی آر نے امداد کے اعلان کو ملتوی کردیا کیونکہ اگر اعلان کیا جاتا تو اس کا کریڈٹ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو جاتا۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر اس واقعہ کے کافی برہم ہیں اور وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے علاوہ قیامگاہ میں کام کرنے والے عملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مالی امداد کا فیصلہ صرف 3 قائدین کے درمیان کیا گیا تھا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ میں سے کس نے اس فیصلہ کے بارے میں دوسروں کو واقف کرایا اور وہاں سے یہ بات حکومت تک پہنچ گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں کے سی آر کی جانب سے لئے گئے کئی فیصلوں کی حکومت کو بروقت اطلاع مل چکی تھی۔ لوک سبھا امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی حکمت عملی سے متعلق فیصلے بھی اعلان سے قبل برسر اقتدار پارٹی تک پہنچ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر کی قیامگاہ اور فارم ہاؤز میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جو خاموشی سے حکومت کیلئے کام کرر ہا ہے۔ کے سی آر نے گھر کے بھیدی کی تلاش کے سلسلہ میں اپنے بعض شخصی ملازمین کے علاوہ بعض قائدین پر بھی کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جان بوجھ کر وہ پارٹی کے بعض اہم فیصلوں کو قائدین اور ملازمین کے درمیان بیان کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ کس نے حکومت تک مخبری کی تھی۔ 1