متنازعہ مقام کی مذہبی شناخت کے تعین کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے۔ پہلے مسلم فریق کی عرضی پر سماعت ہوگی
نئی دہلی : گیان واپی معاملہ پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں ہندو اور مسلم فریق کے درمیان تلخ بحث دیکھنے کو ملی۔ اس درمیان عدالت عظمیٰ نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے ضلع جج کو منتقل کر دیا ہے۔ کیس پر اب سیول جج سینئر ڈیویژن وارانسی کی جگہ ضلع جج وارانسی سماعت کریں گے۔ سپریم کورٹ نے ساتھ ہی یقین دلایا کہ سبھی فریقین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ جسٹس چندرچوڑ کی قیادت میں تین ججوں کی بنچ نے گیان واپی معاملے کی سماعت کی۔ بنچ نے دونوں فریقین کے وکلاء کی بات سننے کے بعد کہا کہ وہ ابھی تین مشوروں پر توجہ دے سکتی ہے۔ پہلا، وہ کہہ سکتی ہے کہ آرڈر 7، رول 11 کے تحت فائل کی گئی عرضی پر ٹرائل کورٹ فیصلہ دے۔ دوسرا، اس نے عارضی حکم دیا ہے جسے معاملے کا فیصلہ آ جانے تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔ تیسرا، بنچ یہ کر سکتی ہے کہ وہ یہ معاملے کی پیچیدگی اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس کی سماعت ضلع جج کے حوالے کرے۔ ایسا کرتے ہوئے بنچ ٹرائل جج پر کسی طرح کا الزام یا قصور نہیں ڈال رہی، بس اتنی سی بات ہے کہ کوئی زیادہ تجربہ کار جج اس معاملے کو سنے۔ اس سے سبھی پارٹیوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے گا۔فاضل عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی عبادتگاہ کی مذہبی شناخت کو معلوم کرنے کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے۔ اس درمیان عدالت عظمیٰ نے کہا کہ پہلے 1991 کے پلیسز آف وَرشپ ایکٹ کی خلاف ورزی کو بتانے والی مسلم فریق کی عرضی پر سماعت ہو۔ اس سماعت تک مبینہ شیولنگ والے علاقہ کو محفوظ رکھنے اور نماز نہ روکنے کی ہدایت جاری رہے گی۔ دراصل مسلم فریق کے وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ 1991 کے پلیسز آف وَرشپ ایکٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے گیان واپی معاملے سے متعلق عرضی کو منظور ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی احمدی نے کہا کہ اسے صرف ایک معاملے کے نظریے سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اس کا اثر چار پانچ مساجد پر پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک شرارت ہے، مذہبی عمارت کے کردار کو بدلنے اور فرقہ وارانہ خیرسگالی کو بگاڑنے کی کوشش ہے۔وکیل حذیفہ احمدی نے اپنی بات سپریم کورٹ بنچ کے سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اب تک جو بھی حکم ٹرائل کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے ہیں وہ ماحول خراب کر سکتے ہیں۔ کمیشن بنانے سے لیکر اب تک جو بھی حکم آئے ہیں اس کے ذریعہ دوسرے فریق مسائل کھڑی کر سکتے ہیں۔ اسٹیٹس کو یعنی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جانا غلط ہوگا، 500 سال سے اس جگہ کو جیسے استعمال کیا جا رہا تھا اسے برقرار رکھا جائے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’ہم نے جو محسوس کیا، وہ سب سے پہلے ہم آرڈر 7، رول 11 پر فیصلہ لینے کے لیے کہیں گے، جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا ہے، ہمارا عارضی حکم متوازن طریقے سے نافذ رہے گا۔‘‘ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے گیان واپی سروے رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کمیشن رپورٹ عدالت میں داخل ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ چنندہ باتوں کو لیک نہیں کیا جانا چاہئے، میڈیا میں باتیں ظاہر کی جا رہی ہیں، حالانکہ اسے عدالت میں جمع کرنا تھا۔ عدالت ہی اسے کھولے۔ حالانکہ کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کی بنچ نے نہیں کھولا اور کہا کہ اسے ضلع جج ہی پہلے دیکھیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔