بی جے پی کے اشارہ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ، ملک بھر میں ووٹ تقسیم کرنے بی آر ایس کا استعمال: ریونت ریڈی
حیدرآباد ۔9 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ٹی آر ایس کی بی آر ایس میں تبدیلی پر سوال اٹھائے اور کہا کہ بی جے پی کے اشارہ پر الیکشن کمیشن نے عدالت میں مقدمہ کے باوجود نام کی تبدیلی کو منظوری دی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بنگارو کولی کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے ، ایسے میں نام کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملہ پر پیر کو سماعت مقرر ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ ٹی آر ایس نے بنگارو کولی کے نام پر سینکڑوں کروڑ روپئے جمع کئے تھے لیکن اس کا حساب الیکشن کمیشن کو نہیں دیا گیا ۔ ریونت ریڈی نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے شکایت کی اور اس معاملہ کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں معاملہ زیر دوران ہے ، باوجود اس کے الیکشن کمیشن نے نام بدلنے کو منظوری دے دی ۔ ریونت ریڈی ٹی آر ایس کے نام کی تبدیلی کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر نے ملاقات کا وقت نہیں دیا ، لہذا انہوں نے آن لائین درخواست داخل کی۔ دہلی ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت صدر جمہوریہ ، وزیراعظم ، وزیر داخلہ اور الیکشن کمیشن کو نمائندگی روانہ کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 25 نومبر کو سنٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2017 ء میں بنگارو کولی کے نام پر وزراء اور عوامی نمائندوں نے کروڑہا روپئے جمع کئے تھے لیکن اس کا حساب پیش نہیں کیا گیا ۔ دہلی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی کی ہدایت دی لیکن آج تک کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نام کی تبدیلی پر حکم التواء کے لئے 7 ڈسمبر کو سماعت مقرر ہے ۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ بی جے پی قائدین کے سی آر کے خلاف کارروائی کے اعلانات کرتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے ذریعہ ٹی آر ایس کی مدد کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ووٹوں کی تقسیم کیلئے عام آدمی پارٹی اور مجلس کا استعمال کیا گیا لیکن قومی سطح پر ووٹ تقسیم کرنے کیلئے بی آر ایس کو استعمال کیا جائے گا۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ ملک میں صنعتی اداروں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے لیکن ٹی آر ایس کے معاملہ میں خاموش ہے۔ سی بی آئی لکر اسکام میں کویتا کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہی ہے ۔ جانچ کیلئے کویتا سے وقت طلب کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں بی جے پی کو کامیاب کرنے کے لئے بی آر ایس حیدرآباد کرناٹک کے علاقوں میں مقابلہ کرے گی تاکہ کانگریس کو برسر اقتدار آنے سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے شہیدوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کے سی آر نے پارٹی کے نام کے ساتھ تلنگانہ کو علحدہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو پھر ایک بار آندھراپردیش میں ضم کرنے کی سازش میں کے سی آر ملوث ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ہماچل پردیش اور گجرات کے اسمبلی نتائج میں میڈیا کی جانب سے کانگریس کی کامیابی کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور ہماچل پردیش جہاں بی جے پی برسر اقتدار تھی، عوام نے مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اشارہ پر ہماچل پردیش میں کانگریس کی کامیابی کو پیش کرنے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ر