ہندوستان ایک ہندو ملک ہے آر ایس ایس اس پر منجمد۔ بھاگوت

,

   

نئی دہلی۔ راشٹرایہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کے روز کہاکہ ملک کی شناخت کے متعلق ان کی سونچ اور ادعا مستحکم ہے اور وہ اس بات پر قائم ہے کہ ”بھارت ایک ہندو راشٹر ہے“۔

مہارشٹرا کے ناگپور میں تاسیسی یوم تقریب سے خطاب کے دوران بھاگوت نے کہاکہ ”ملک کی شناخت کے متعلق سنگھ کی سونچ اور دعوی‘ ہم تمام کی سماجی شناخت ہے اور فطری طور پر ملک کی شناخت واضح ہے اور پختہ ہے کہ بھارت‘ ہندوستان‘ ہندو راشٹر ہے“۔

آر ایس ایس سربراہ نے کہاکہ ”جس کا تعلق بھارت سے ہے‘ جو بھارتی ثقافت کے وارث ہیں‘ جنھوں نے قوم کے حتمی وقار کے لئے کام کیاہے اور امن کو بڑھاوا دینے کے لئے ہاتھ ملا ہے‘ تمام اقوام کا احترام کرتے ہیں‘ وہ تمام بھارتی ہندو ہیں“۔

انہو ں نے مزیدکہاکہ اگر کچھ لوگ بھارتیہ کو ”انڈیک“ کہتے ہیں تو سنگھ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ”ہم نے اپنے تجربے سے پایا ہے کہ سارے ملک او رسارے دنیامیں‘ ہماری قوم کی تہذیب اور ثقافت کے حوالے سے اگر کسی چیز کا اظہار کیاجائے تو اس کے لئے لفظ ’ہندو‘ ہی ہے“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”ہماری ثقافت‘ تہذیب‘ عبادت کے طریقہ کار‘ کھانے کی عادتیں‘ طرز زندگی‘ ریاست‘ لسانیت میں تنوع پایاجاتا ہے مگر ہم ایک معاشرہ ہیں۔

وابستگی او رشمولیت کا یہ احساس قوم کاشعور ہے۔ وہی ہندوتوا ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پرسنگھ(آر ایس ایس)کام کرتا ہے“۔ انہوں نے تشدد کے کچھ واقعات کا بھی ذکر کیااور کہاکہ جس میں ہجومی تشدد پیش آیاتھا تاکہ حقیقت میں ہندوستان‘ ہندوسوسائٹی کوبدنام کرنے کی سازش ہے اور کچھ طبقات میں خوف کا ماحول پیدا کیاجاسکے۔

مذکورہ آر ایس ایس کے ممبرس اس میں نہ تو ملوث ہیں اور نہ ہی بچانے کاکام کیاہے‘ آر ایس ایس سربراہ نے کہاکہ معاشرے میں جس قسم کی ہم آہنگی ہونی چاہئے وہ اب بھی موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس اس طرح کے افسوسناک واقعات کوروکنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس طرح کے واقعات ملک کی روایت کاحصہ نہیں ہے‘ مگراس کو منسوب کرنے کی کوش کی جارہی ہے اور اس کے لئے ہجومی تشدد کا اصطلاح کا استعمال کیاجارہا ہے‘ وہ چاہتے ہیں ملک او رہندوسوسائٹی کی شبہہ بگاڑدے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ معاشرے کے کچھ شر پسند عناصر ہیں جو ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔سنگھ کا نام لے کر وہ طبقات کے درمیان میں لڑائی کرانے چاہتے ہیں۔

مفادات حاصلہ کے لئے اس طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں‘ تاکہ ان لوگوں کے درمیان میں خوف کا ماحول بنایاجاسکے جو اب تک سنگھ کے رابطے میں نہیں ائے ہیں۔